سندھ بلڈنگ،وسطی کے رہائشی علاقوں کی تنگ گلیوں میں غیر قانونی تعمیرات
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی کی ملی بھگت نے شہری مسائل کو سنگین بنادیا،متعلقہ محکمے خاموش
لیاقت آباد کی رہائشی گلیوں میں ، 8/539، ،9/183، پر خلاف ضابطہ کمرشل تعمیرات
وسطی کے رہائشی علاقوں کی تنگ گلیوں میں رہائشی پلاٹوں کو غیرقانونی طور پر کمرشل پورشن یونٹس میں تبدیل کرنے کا غیرقانونی سلسلہ تواتر سے جاری ہے ۔اس خلاف ضابطہ عمل نے نہ صرف علاقے کے رہائشی ماحول کو تباہ کر دیا ہے بلکہ ٹریفک جام، آلودگی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا ہے ۔ زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اس سب کے پیچھے محکمانہ غفلت نہیں بلکہ انتظامیہ کی ملی بھگت کے گہرے شبہات ہیں ۔مقامی رہائشی اور کاروباری افراد اس بات پر متفق ہیں کہ یہ غیرقانونی کام بغیر ’’سرپرستی‘‘ کے ممکن نہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی رہائشی، ثناء اللہ کا کہنا ہے ، ’’ہم نے کئی بار سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں شکایتیں درج کروائیں۔ ایک دو بار تو ٹیمیں آئیں بھی، انہوں نے کچھ توڑ پھوڑ بھی کی، مگر اگلے ہی دن سب کچھ دوبارہ ویسے کا ویسا ہو چکا ہوتا ہے ۔یہ محض شوٹنگ ہے عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے ‘‘۔مقامی ذرائع کے مطابق، مختلف بلاکس کے لیے مخصوص اہلکاروں اور ایجنٹوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے جو ان غیرقانونی سرگرمیوں کو ’’کنٹرول‘‘ کرتا ہے ۔ نئے کمرشل یونٹس کے لیے ’’ایک ساتھ بیٹھ کر حل‘‘ نکالا جاتا ان حالات میں عام شہری بے بس اور مجبور ہیں۔لیاقت آباد نمبر 9کے ایک رہائشی عمران شیخ کا کہنا ہے ۔ ’’اب ان ڈیزائنر بوٹیک، کپڑوں کی فیکٹریوں اور چھوٹے شو رومز کی وجہ سے تو پیدل چلنا بھی مشکل ہو گیا ہے‘‘ ۔پانی کی لائنیں دب گئی ہیں، سیوریج کا نظام ان اضافی دباؤ کو برداشت نہیں کر پا رہا، گلیوں میں کوڑے کے ڈھیر لگے رہتے ہیں کیونکہ کمرشل کوڑا کرکٹ رہائشی کوڑے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے ۔رات گئے تک چلنے والے جنریٹرز نے علاقے کے پرامن رہائشی ماحول کو تجارتی بازار میں بدل دیا ہے ۔زمینی حقائق کے مطابق اسوقت بھی ڈپٹی ڈائریکٹر عمران رضوی کی ملی بھگت سے لیاقت آباد پلاٹ 8/539 اور 9/183 پر دھڑلے سے ہو رہی ہیں ۔رہائشی پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ترجمان نے باقاعدہ طور پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’خلاف ورزیوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور ہم عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں‘‘۔تاہم، زمینی حقائق بیانات کی نفی کرتے ہیں۔مقامی باشندے اب ایک جامع اور شفاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محض معمولی توڑ پھوڑ سے کام نہیں چلے گا۔ ان کا مطالبہ ہے ۔1۔سب سے پہلے ان اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کی جائیں جو ان غیرقانونی کاموں میں ملوث ہیں۔2 ۔تمام نئی اور پرانی غیرقانونی کمرشل تعمیرات کو بلا امتیاز مسمار کیا جائے ۔3 ۔رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: گلیوں میں
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔