فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے، قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے، قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر WhatsAppFacebookTwitter 0 25 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)انٹر سروسز پبلک ریلیشن(آئی ایس پی آر)لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ جنرل (ر)فیض حمید کا کورٹ مارشل ایک قانونی اورعدالتی عمل ہے، قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہیں۔یہ بات ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
افغانستان پر حملے سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیا کہ ہم کھلم کھلا اعلان کرتے ہیں جب حملہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں، فوج کے نمائندے بھی ان کمیٹیوں کاحصہ ہیں، معیشت کے خلاف جو گٹھ جوڑ بن رہاہے بلوچستان حکومت اس کے خلاف کام کررہی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت پوری طرح عمل درآمد کررہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنرل (ر)فیض حمید کا کورٹ مارشل ایک قانونی اورعدالتی عمل ہے، کورٹ مارشل معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، جیسے ہی عمل درآمد ہوگا اس پر کوئی فیصلہ آئے گا ہم آپ کو بتائیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد کچہری خودکش حملے سے متعلق گرفتار ملزم کا بیان،ہوشربا انکشافات اسلام آباد کچہری خودکش حملے سے متعلق گرفتار ملزم کا بیان،ہوشربا انکشافات جمعیت علما اسلام (ف)نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا اسرائیلی وزیراعظم نے سکیورٹی خدشات پر اپنا بھارت کا دورہ منسوخ کردیا خاتون اقلیتی ڈاکٹر سے بدکلامی، ڈاکٹر رشیدہ سومرو کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کا آغاز دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کی طبیعت ناساز، اسپتال منتقل اسحاق ڈار سے ایرانی مشیر علی لاریجانی کی ملاقات، باہمی تعاون کے فروغ کا عزمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیض حمید کا کورٹ مارشل ڈی جی آئی ایس پی آر کے خلاف عمل ہے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔