چین کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم، دیر پا امن کے لیے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
چین نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے پہلے مرحلے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ فلسطین پر فلسطینیوں کی حکمرانی کا اصول قائم رہنا چاہیے۔
سوئٹزرلینڈ میں پریس کانفرنس کے دوران چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے کہاکہ غزہ کے مستقبل سے متعلق کسی بھی فیصلے میں فلسطینی عوام کی مرضی اور خواہشات کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔
FM Wang Yi outlined China’s position on the first-phase ceasefire and prisoner swap agreement between Israel and Hamas:
China welcomes all efforts aimed at restoring peace and saving lives.
— Lin Jian 林剑 (@SpoxCHN_LinJian) October 12, 2025
انہوں نے واضح کیاکہ ’فلسطینی، فلسطین پر خود حکومت کریں‘ کا اصول عالمی برادری کا مشترکہ مؤقف ہے اور اسے برقرار رہنا چاہیے۔
وانگ ژی نے کہاکہ چین ان تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو خطے میں امن کی بحالی، انسانی جانوں کے تحفظ اور انسانی المیے میں کمی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
ان کے مطابق غزہ میں جاری انسانی بحران اکیسویں صدی پر ایک بدنما داغ ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی ضمیر بیدار ہو اور عالمی برادری مل کر ایک حقیقی، جامع اور پائیدار جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرے۔
چینی وزیرِ خارجہ نے مزید کہاکہ دو ریاستی حل پر قائم رہنا ناگزیر ہے، کیونکہ صرف ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست ہی اپنے جائز قومی حقوق کے حصول کے ذریعے تاریخی ناانصافیوں اور تشدد کے اس سلسلے کو ختم کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالث ملکوں کے درمیان امن معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب بڑا قدم، امریکا اور ثالثوں نے غزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کردیے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ امن معاہدہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے اس دن کو تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ امن معاہدہ دوست ممالک کے تعاون اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews چین غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین معاہدے کا خیرمقدم وی نیوز کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔