بلوچستان میں کوئی بغاوت نہیں‘ صرف نام نہاد علیحدگی پسند تحریکیں سرگرم ہیں‘ سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبے میں بغاوت کو مسترد کرتے ہوئے ’بھارت کے حمایت یافتہ نام نہاد علیحدگی پسند تحریکوں‘ کو سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذمے دار قرار دے دیا۔ کوئٹہ میں منعقدہ 17ویں نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبے میں کوئی بغاوت نہیں بلکہ نام نہاد علیحدگی پسند تحریکیں سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ریاست مخالف عناصر کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا ہے، بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بگڑنے کی اصل ذمے دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی خراب صورتحال کے پیچھے بھارتی ایجنسی ’را‘ کا واضح کردار ہے، علیحدگی پسند بھارت سے خوش ہیں مگر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف مسلح افواج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ لڑائی ہے، صوبے میں ’غیر مساوی ترقی‘ کا جھوٹا تاثر جان بوجھ کر پیدا کیا گیا تاکہ تقسیم کی فضا ہموار کی جا سکے، اور ناراض بلوچ جیسی اصطلاحات صرف دہشت گردی کو جواز دینے کے لیے گھڑی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شخص تشدد کا راستہ اختیار کرے اور ہتھیار اٹھائے، وہ ناراض نہیں بلکہ دہشت گرد ہے، نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلہ سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے پیدا کیا گیا جب ہ حکومت، یونیورسٹیوں اور ہر فورم پر جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کے مسائل براہِ راست سنے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں سیکورٹی کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، سیکورٹی فورسز ان علاقوں میں آپریشن کر رہی ہیں جہاں دوست اور دشمن میں فرق کرنا مشکل ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز اور سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کی حالیہ رپورٹس کے مطابق سال 2025 کے ابتدائی 3 سہ ماہیوں میں ملک میں اتنا ہی تشدد دیکھا گیا جتنا پورے 2024 میں ہوا تھا۔ 2024 میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے خیبرپختونخوا میں ریکارڈ کیے گئے، جن کی تعداد 295 تھی، جبکہ بلوچستان میں مختلف کالعدم بلوچ تنظیموں، خصوصاً بی ایل اے اور بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے حملوں میں 119 فیصد اضافہ ہوا، جو کل 171 واقعات پر مشتمل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علیحدگی پسند
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز