بندوق کے زور پر تشدد کرنے والا شخص ناراض نہیں بلکہ دہشت گرد ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کوئٹہ:
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ’’ناراض بلوچ‘‘ کی اصطلاح دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی، جو شخص بندوق کے زور پر تشدد کرے وہ ناراض نہیں بلکہ دہشت گرد ہے۔
کوئٹہ میں 17 ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں شورش نہیں بلکہ علیحدگی کی نام نہاد تحریکیں ہیں، ملک دشمن عناصر کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا ہے، دشمن پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی کے پیچھے بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا واضح کردار ہے، علیحدگی پسند بھارت سے خوش ہیں مگر پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ بلوچ عوام کو بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے، لاحاصل جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پہلا فراری کیمپ 21 جون 2002 کو قائم کیا گیا، جس سے دہشت گردی کو فروغ ملا، سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا کے ذریعے نوجوانوں اور ریاست کے درمیان فاصلے بڑھائے گئے۔ حکومت نوجوانوں کے گلے شکوے سننے کے لیے جامعات اور ہر فورم پر جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج نہیں، بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے اور سیاست سے زیادہ اہم ریاست پاکستان ہے، بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی ذمے داری سمجھ کر اپنایا ہے۔ دہشت گردی سے متعلق حکومت بلوچستان کا موٴقف دوٹوک اور واضح ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سی ٹی ڈی کی استعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جس کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کر دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ایسے علاقوں میں کارروائیاں کر رہی ہیں جہاں دشمن اور دوست کی پہچان مشکل ہے، واضح دشمن کے خلاف کارروائی آسان اور اندرونی صفوں میں موجود دشمن سے نمٹنا زیادہ مشکل ہے، واضح دشمن کے خلاف حالیہ کارروائی پوری قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے 24 ذیلی اضلاع میں گزشتہ 12 برسوں سے اسسٹنٹ کمشنرز تعینات نہیں تھے، موجودہ حکومت نے افسران کی تعیناتی کرکے ریاستی رٹ کو بحال کیا ہے۔ بلوچستان میں غیر متوازن ترقی کا غلط تاثر جان بوجھ کر پیدا کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ گورننس کی بہتری اور اصلاحات کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ صحت و تعلیم کے شعبوں میں نمایاں بہتری سامنے آرہی ہے، صوبے میں 3200 غیر فعال اسکولز اور 164 بنیادی طبی مراکز کو فعال کیا گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان نے کہا کہ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کہ دہشت کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
اسحٰق ڈار: مسلم اُمہ کو متحد ہو کر عصری چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے، اس لیے مسلم اُمہ کو متحد ہو کر تمام عصری چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق ہفتہ کو بین الاقوامی قرات مقابلے کے شرکاء سے خطاب میں انہوں نے غزہ، مقبوضہ کشمیر، لبنان، عراق، شام، ایران اور قطر میں حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مسلم اُمہ مشترکہ عقائد اور ایمان کی بنیاد پر متحد ہے اور علماء کرام کو چاہیے کہ اتحاد اور یکجہتی کی تعلیم دیں، کیونکہ یہی مسائل کا بہترین حل ہے۔
انہوں نے شرکاء سے کہا، “متحد رہیں، کیونکہ زمین پر کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اللہ تعالیٰ نے اُمہ کو وسائل سے نوازا ہے۔”
اسحٰق ڈار نے واضح کیا کہ اسلامی تعلیمات کسی قسم کی دہشت گردی یا انتہاپسندی کی اجازت نہیں دیتیں۔ انہوں نے کہا، “ایک انسان کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے، جبکہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔”
انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کا بھی ذکر کیا، کہا کہ 2013 سے 2017 کے دوران نواز شریف کی قیادت میں ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا، مگر 2018 میں کچھ غلطیوں کی وجہ سے 2021 سے 2025 کے دوران ہزاروں فوجی جوانوں نے قربانیاں دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج کا عزم واضح ہے کہ دہشت گردی کا ایک بار پھر ملک سے خاتمہ کیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی تقریب سالانہ بنیادوں پر منعقد کی جائے گی، اور نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں، ہمدردی، محبت، انسانیت، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے اخلاقی اوصاف اپنائیں تاکہ مسلم اُمہ مضبوط اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو۔