الخدمت سندھ کے تحت رضاکاروں کے لیے تربیتی ورکشاپ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-08-9
کراچی( اسٹاف رپورٹر) الخدمت فاؤنڈیشن سندھ شعبہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کے زیراہتمام ضلع میرپورخاص میں رضاکاروں کے لیے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد رضا کاروں کو قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں مؤثر، منظم اور فوری ردعمل کی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا تھا۔ورکشاپ کے دوران ریسکیو 1122 کے ماہرین نے شرکا کو عملی تربیت فراہم کی، جس میں فرسٹ ایڈ، آگ سے بچاؤ کے طریقہ کار، انخلا (Evacuation) کے
اصول، اور ہنگامی صورتحال میں فوری امدادی اقدامات شامل تھے۔ ورکشاپ میں رضاکاروں کو عملی مشقوں کے ذریعے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی حکمتِ عملی بھی سکھائی گئی۔اس موقع پر جنرل سیکرٹری الخدمت فاؤنڈیشن سندھ محمد شاہد نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الخدمت کے رضاکار ہمیشہ آزمائش کی ہر گھڑی میں خدمت انسانیت کے جذبے کے ساتھ پیش پیش رہے ہیں۔ تربیت یافتہ رضاکار ہی کسی بھی آفت یا حادثے کے بعد بروقت اور مؤثر امداد فراہم کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ رضاکاروں کی استعداد کار میں اضافہ ہی فلاحی خدمات کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔ورکشاپ میں ریجنل ڈپٹی ڈائریکٹر واش پروگرام زاہدالرحمٰن، امیر ضلع محمد سلمان خالد،ضلعی صدر محمد عرفان الحق، ریسکیو 1122 کے افسران اور دیگر معزز مہمانوں نے بھی شرکت کی۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فلسطینی نژاد امریکی بچہ 9 ماہ کے بعد اسرائیلی قید سے آزاد
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی نژاد امریکی بچے محمد ابراہیم کو 9 ماہ کے بعد اسرائیلی قید سے آزادی مل گئی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق صرف 15 برس کی عمر میں گرفتار ہونے والا یہ بچہ اپنی 16 ویں سالگرہ بھی اسرائیلی کوٹھڑی کی تاریکی میں قید تنہائی کے سائے میں گزارنے پر مجبور ہوا تھا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق محمد ابراہیم کو رواں برس فروری میں اس وقت اٹھا لیا گیا جب وہ اپنے والدین کے ہمراہ امریکا سے اپنے آبائی قصبے المزعرہ الشرقیہ آیا تھا۔ خاندان کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے گھر پر چھاپے کے دوران نہ صرف اسے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر والدین کے سامنے زبردستی گرفتار کر کے لے گئے۔
بعد ازاں دورانِ حراست اسے ذہنی اور جسمانی طور پر بدترین اذیتیں دی گئیں۔ والدین نے بتایا کہ مسلسل ظلم کے باعث اس کا وزن کم ہوتا گیا، وہ نقاہت اور کمزوری کا شکار ہوگیا اور جلد کی ایک شدید بیماری میں مبتلا ہوگیا جس نے اسے بالکل نڈھال کر دیا۔
اس تمام عرصے میں خاندان کو نہ تو ملاقات کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اپنے بچے سے براہِ راست کوئی رابطہ کرنے دیا گیا۔ اہل خانہ صرف امریکی حکام کے ذریعے ہی یہ جان پاتے تھے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں اور اس کی حالت کیسی ہے۔ امریکی اداروں کی رپورٹس کے مطابق محمد ابراہیم کی حالت روز بروز بگڑتی گئی، جس کے بعد معاملہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہونا شروع ہوا۔
اسرائیلی حکام نے گرفتاری کے بعد یہ کمزور مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی کہ محمد ابراہیم نے یہودی آبادکاروں پر پتھر پھینکے تھے، تاہم نہ تو کوئی زخمی سامنے آیا اور نہ اسرائیلی پولیس ایک بھی ثبوت فراہم کر سکی۔ خود محمد ابراہیم نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب جھوٹ پر مبنی کہانی ہے جس کا مقصد اسے نشانہ بنانا ہے۔
بعد ازاں امریکا میں شہری حقوق کی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور متعدد قانون سازوں نے مل کر اس معصوم لڑکے کی رہائی کے لیے مہم تیز کی۔ گزشتہ ماہ 27 امریکی ارکانِ کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ کو خط لکھ کر اس معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔