پروٹین سپلیمنٹس میں خطرناک حد تک سیسہ کی مقدار پائی گئی، کنزیومر رپورٹس
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
کنزیومر رپورٹس کی تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ متعدد پروٹین پاؤڈرز اور شیکز میں لیڈ اور دیگر بھاری دھاتوں کی خطرناک مقدار موجود ہے۔
مزید پڑھیں: کیا بور کا پانی بال جھڑنے کا سبب بنتا ہے؟
رپورٹ کے مطابق، 23 مصنوعات میں سے دو تہائی میں لیڈ کی سطح روزانہ کی محفوظ حد سے تجاوز کر گئی، جبکہ بعض میں یہ 10 گنا تک زیادہ پائی گئی۔
Naked Nutrition اور Huel کے پلانٹ بیسڈ پاؤڈرز میں سب سے زیادہ آلودگی پائی گئی، جبکہ Owyn اور Transparent Labs کے شیکز کو سب سے محفوظ قرار دیا گیا۔
مزید پڑھیں: جسمانی توانائی کی سطح بڑھانے کے قدرتی طریقے
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طویل المدتی استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پروٹین سپلیمنٹس سیسہ کی مقدار کنزیومر رپورٹس.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیسہ کی مقدار کنزیومر رپورٹس
پڑھیں:
فرانس کی جیل سے خطرناک قیدی بیڈ شیٹس باندھ کر فلمی انداز میں فرار ہو گئے
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیرس: فرانس میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاں پرانی اور خستہ حال جیل میں قید 2 افراد اچانک غائب پائے گئے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق جیل حکام معمول کی طرح قیدیوں کی گنتی کر رہے تھے کہ انہیں پتا چلا کہ 2 قیدی لاپتا ہیں۔ غیر متوقع صورتحال پر عملہ فوراً الرٹ ہوا اور تفتیش پر پتا چلا کہ کوٹھڑی کی کھڑکی کی موٹی اور مضبوط سلاخیں کاٹی جا چکی تھیں جب کہ باہر لٹکی ہوئی بیڈ شیٹس سے پتا چلا کہ قیدیوں نے ان سے رسی بنا کر نیچے اترنے میں کامیابی حاصل کی اور فرار ہو گئے۔
تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ فرار ہونے والے قیدیوں میں سے ایک 19 برس کا نوجوان ہے جو گزشتہ برس اکتوبر سے قتل کی کوشش کے الزام میں زیر حراست تھا اور مقدمہ ابھی چل رہا تھا۔ دوسرا قیدی اپنے شریک حیات پر تشدد اور دھمکیاں دینے کے جرم میں سزا کاٹ رہا تھا۔
حکام کے مطابق دونوں قیدی نہ صرف ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے بلکہ کافی عرصے سے اپنی رہائی کا راستہ تلاش کر رہے تھے۔ ان کے پاس سے کوئی جدید اوزار نہیں ملے، تاہم انہوں نے پرانی طرز کی دستی آریاں استعمال کی گئیں، جن کے ذریعے انہوں نے مہینوں کی محنت کے بعد آہستہ آہستہ سلاخوں کو کاٹا اور مناسب وقت دیکھ کر رات کی تاریکی میں بھاگ نکلے۔
واضح رہے کہ یہ جیل انیسویں صدی میں تعمیر ہوئی تھی اور برسوں سے مرمت کی منتظر ہے۔ یہاں قیدیوں کی تعداد بھی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ جس جگہ صرف 100 قیدی رکھنے کی صلاحیت تھی، وہاں 300 سے زائد افراد کو رکھا گیا ہے، جس کے باعث نگرانی مؤثر انداز میں ممکن نہیں رہتی۔
علاوہ ازیں خستہ حالی، عملے کی کمی اور حفاظتی نظام کی کمزوری نے قیدیوں کے فرار کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا وہاں تعینات اہلکاروں کی جانب سے کوئی غفلت تو نہیں برتی گئی۔