کوئی نہیں جانتا سوشل میڈیا پر کیا رپورٹ کی جائیگی، چیف جسٹس آف انڈیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
چیف جسٹس یہ ریمارکس آل انڈیا ججز ایسوسی ایشن کی ایک سماعت کے دوران کررہے تھے، جس میں سروس کی شرائط، تنخواہ کے پیمانے اور عدالتی افسران کی ترقیوں سے متعلق مسائل اٹھائے گئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کے چیف جسٹس بی آر گوائی نے سوشل میڈیا پر عدالتی کارروائی کے دوران ججوں کے زبانی ریمارکس کی غلط بیانی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں عدلیہ کے ہر تبصرے کی غلط تشریح کی جا سکتی ہے جس سے غیر ضروری تنازعات جنم لیتے ہیں۔ یہ تبصرہ سپریم کورٹ کے احاطے میں پیر کو ایک وکیل کی طرف سے چیف جسٹس آئی گوائی پر اعتراض کرنے کی کوشش کے بعد آیا۔ وکیل مبینہ طور پر کھجوراہو میں وشنو مجسمہ کی بحالی کے سلسلے میں گزشتہ ماہ دائر کی گئی درخواست پر چیف جسٹس آف انڈیا کے تبصروں سے غیر مطمئن تھا۔ واقعے کے فوری بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اس شخص کو حراست میں لے لیا، اس حملے کی ملک بھر میں مذمت کی گئی۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ٹویٹر پر اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احاطے میں چیف جسٹس پر حملہ ہر ہندوستانی کو غم و غصہ کا باعث ہے۔ اس طرح کی قابل مذمت حرکتوں کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ چیف جسٹس گوائی نے ایک سماعت کے دوران ایک ہلکا پھلکا واقعہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنے ساتھی جج جسٹس کے ونود چندرن کو ایک کیس کی سماعت کے دوران عوامی تبصرے کرنے سے روک دیا تھا تاکہ سوشل میڈیا پر کسی غلط تشریح سے بچا جا سکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میرے معزز ساتھی (جسٹس کے.
چیف جسٹس کے تبصروں کو عدلیہ اور سوشل میڈیا کے درمیان تعلق کے ایک اہم اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جج اکثر عدالتی کارروائی کے دوران ایسے بیانات دیتے ہیں جو فیصلے کا حصہ نہیں ہوتے لیکن سوشل میڈیا پر اکثر غلط طریقے سے پیش کئے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا یہ ریمارکس آل انڈیا ججز ایسوسی ایشن کی ایک سماعت کے دوران کر رہے تھے، جس میں سروس کی شرائط، تنخواہ کے پیمانے اور عدالتی افسران کی ترقیوں سے متعلق مسائل اٹھائے گئے تھے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نچلی عدالتوں میں جوڈیشل افسران کے کیریئر میں جمود کا مسئلہ پانچ رکنی آئینی بنچ کو بھجوایا جائے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ کرنے کی کوشش کرنے والا وکیل گزشتہ ماہ کھجوراہو میں وشنو مجسمہ کی بحالی سے متعلق سماعت کے دوران گوائی کے زبانی ریمارکس سے غیر مطمئن تھا۔ اس شخص سے فی الحال پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سماعت کے دوران سوشل میڈیا پر ا ف انڈیا چیف جسٹس کہا کہ
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں