مقاومت کی اولین ترجیح جنگ اور صیہونی حملوں کا مکمل خاتمہ ہے، جہاد اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں علی ابو شاھین کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل کسی شرط اور ضمانت کے بغیر اپنے قیدیوں کی رہائی چاہتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک "جہاد اسلامی" كے پولیٹیكل بیورو "علی ابوشاهین" نے اعلان کیا کہ موجودہ مرحلے میں مزاحمت کی اولین ترجیح غزہ کے خلاف جنگ اور نہتے شہریوں کے قتل عام كا خاتمہ ہے۔ علی ابو شاھین نے غزہ اور اسرائیل کے درمیان غیر مستقیم مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا كہ ان مذاکرات میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل کسی شرط اور ضمانت کے بغیر اپنے قیدیوں کی رہائی چاہتا ہے۔ البتہ استقامتی محاذ کا اس بات پر اصرار ہے کہ بنیادی شرط کے طور پر کسی بھی معاہدے تک پہنچنے کے لئے ہر طرح کے صیہونی حملے بند کئے جائیں۔ واضح رہے کہ آج شرم الشیخ میں ثالثین کی مدد سے فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" اور اسرائیل کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔
یہ مذاکرات مصر کے مقامی وقت صبح 11 بجے شروع ہوئے، جس میں قیدیوں کے تبادلے، غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی عدم تکرار کو یقینی بنانا، قابض فورسز کے انخلاء اور غزہ میں امداد کی ترسیل کے عمل پر تبادلہ خیال جاری ہے۔ مذاکرات کے اس مرحلے میں مصری انٹیلی جنس ایجنسی چیف "حسن رشاد"، قطری وزیر اعظم و وزیر خارجہ "محمد بن عبدالرحمن آل ثانی"، ترکیہ كے سیكورٹی و انٹیلی جنس ایجنسی چیف "ابراہیم کالین" اور ڈونلڈ ٹرامپ کے دو ایلچی "اسٹیو ویٹکاف" و "جیرڈ کشنر" موجود ہیں۔ اس پیشرفت كے بارے میں مصری مصنف اور صحافی "سمیر عمر" نے کہا كہ گزشتہ دو دنوں کے دوران شرم الشیخ میں ہونے والے مذاکرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین غزہ میں جنگ بندی کے لئے ڈونلڈ ٹرامپ کے منصوبے کو نتیجہ خیز بنانے اور نافذ کرنے کے لئے سخت محنت کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔