چین سے تجارتی تعلقات ختم کرنے پر غور، ٹرمپ نے بڑی دھمکی دے دی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت چین کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس فیصلے کی ممکنہ وجہ چین کی جانب سے امریکی سویابین کی خریداری بند کرنا بتائی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل (Truth Social) پر جاری ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ چین نے جان بوجھ کر امریکی سویابین خریدنا بند کیا ہے، جو کہ امریکی معیشت کے خلاف ایک دشمنانہ قدم ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ چین کے اس رویے سے امریکی کسان شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت اب چین کے ساتھ کوکنگ آئل سمیت کئی تجارتی معاہدوں پر نظرِ ثانی کر رہی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’’ہم آسانی سے اپنا کوکنگ آئل خود تیار کر سکتے ہیں، اس کے لیے ہمیں چین پر انحصار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے واقعی چین سے تجارتی تعلقات ختم کر دیے تو عالمی منڈیوں میں شدید عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے، خصوصاً زراعت اور خوراک کے شعبے میں۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ہم یورپی یونین میں ترکیہ کی شمولیت کے حامی ہیں، جرمنی
جرمن وزیر خارجہ کے ساتھ اپنی ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں حکان فیدان کا کہنا تھا کہ برلن اور انقرہ کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔ ہمارا کسی دوسرے ملک کے ساتھ اتنا قریبی سماجی تعلق نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ آج "برلن" میں جرمنی کے وزیر خارجہ "یوهن وادفول" نے اپنے تُرک ہم منصب "حكان فیدان" سے ملاقات کی۔ اس موقع پر یوھن وادفول نے کہا کہ جرمنی، یورپی یونین کا حصہ بننے کے لئے ترکیہ کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ملاقات میں دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات، یوکرین و مشرق وسطیٰ کی صورت حال، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور یورپی یونین میں ترکیہ کی رکنیت کے عمل پر بات چیت کی۔ دوسری جانب اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں تُرک وزیر خارجہ نے کہا کہ برلن اور انقرہ کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔ ہمارا کسی دوسرے ملک کے ساتھ اتنا قریبی سماجی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یورپی یونین کا حصہ بننے کے لئے طے شدہ شرائط سے کوئی مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہاں ہے کہ اس عمل میں سالوں سے کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی۔ ہم نے اس حوالے سے مذکورہ بالا ملاقات میں ضروری بات چیت کی۔ ہمیں اب بھی توقع ہے کہ یورپی یونین، ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو معمول کے مطابق چلائے گی۔