یو ای ٹی لاہور اور پنجاب یونیورسٹی کے درمیان ؎ معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کامرس ڈیسک ) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور اور یونیورسٹی آف دی پنجاب (پی یو) لاہور کیدرمیان تعلیمی و تحقیقی تعاون کو فروغ دینے کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر (تمغہ امتیاز) اور وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے معاہدے پر دستخط کیے۔معاہدے کے تحت دونوں جامعات کے اساتذہ، محققین اور طلبہ کی تیار کردہ مصنوعات، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں گی۔ترجمان یو ای ٹی لاہور کے مطابق معاہدے کے تحت دونوں ادارے ایک دوسرے کی تیار کردہ تحقیقی مصنوعات اور وسائل کو اکیڈمک، تحقیقی اور ترقیاتی مقاصد کے لئے استعمال کر سکیں گے۔یہ تعاون جامعات کے درمیان بین الشعبہ جاتی تحقیق، جدت اور وسائل کے بہترین استعمال کو فروغ دے گا۔مفاہمتی یادداشت کے مطابق دونوں جامعات مشترکہ طور پر ورکشاپس، تربیتی سیشنز اور سیمینارز کا انعقاد کریں گی تاکہ تحقیقی صلاحیت میں اضافہ ہو اور علم و تجربات کا تبادلہ ممکن ہو سکے۔ اس تعاون کے تحت لیبارٹری آلات، ڈیٹا، پروٹوٹائپس اور دیگر تحقیقی مواد کو بھی باہمی اتفاق سے شیئر کیا جا سکے گا جبکہ دونوں اداروں کے انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کا مکمل احترام کیا جائے گا۔اس موقع پر وائس چانسلر یو ای ٹی نے کہا کہ یہ اشتراک اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جامعات کو چاہیے کہ وہ مسابقت کی بجائے اشتراک کے ذریعے جدت اور تحقیق کو فروغ دیں۔انہوں نے کہا کہ یو ای ٹی اور پنجاب یونیورسٹی مل کر ملک کو درپیش چیلنجز کے حل کے لئے تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یو ای ٹی
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔