بھارتی نژاد اعلیٰ امریکی عہدیدار کی جاسوسی الزامات میں گرفتاری، تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
بھارتی نژاد سابق امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل مشیر ایشلے جے ٹیلِس کو ایف بی آئی نے خفیہ دفاعی معلومات رکھنے اور چینی حکام سے مشتبہ روابط کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ایشلے جے ٹیلِس امریکی حکومت میں بھارت، پاکستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی سازی کے کلیدی مشیر رہ چکے ہیں۔ ان کی گرفتاری کو نہ صرف واشنگٹن بلکہ بھارت کے لیے بھی ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹیلِس بھارتی شہر ممبئی میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں شکاگو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد امریکی شہریت حاصل کی۔ وہ نیشنل سیکیورٹی کونسل اور محکمہ خارجہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور انہیں واشنگٹن میں بھارت نواز پالیسی کے معماروں میں شمار کیا جاتا تھا۔
ایف بی آئی کے مطابق، تلاشی کے دوران ٹیلِس کے گھر سے ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل خفیہ دفاعی دستاویزات برآمد ہوئیں جن میں امریکی فضائیہ کی صلاحیتوں، عسکری منصوبوں اور حکمتِ عملی سے متعلق حساس معلومات شامل تھیں۔ نگرانی کی ویڈیوز میں انہیں محکمہ دفاع اور خارجہ سے فائلیں چُھپا کر لے جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
امریکی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیلِس نے چینی حکام سے متعدد خفیہ ملاقاتیں کیں، جہاں انہیں لفافے اور تحائف کے بیگ دیے جاتے رہے۔ تاہم تاحال یہ ثابت نہیں ہوا کہ انہوں نے کوئی معلومات منتقل کیں، لیکن خفیہ معلومات کی غیر مجاز تحویل سنگین جرم ہے، جس پر انہیں 10 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
امریکی اٹارنی لنڈسے ہالیگن نے کہا کہ "ہم امریکی عوام کو ہر قسم کے اندرونی یا بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔"
ٹیلِس کی گرفتاری نے بھارت–امریکہ تھنک ٹینک حلقوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں وہ برسوں سے بھارت–امریکہ تعلقات کے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ کیس امریکی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے جہاں غیر ملکی نژاد ماہرین حساس معلومات تک رسائی رکھتے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ واشنگٹن پہلے ہی بھارت پر روسی تیل کی خریداری اور ماسکو سے تعلقات کے حوالے سے عدم اعتماد کا اظہار کر چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی نژاد مشیروں پر عدم اعتماد کا تاثر بڑھا تو مستقبل میں امریکی پالیسی اداروں میں غیر ملکی پس منظر رکھنے والے ماہرین کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پیسوں کےلیے ناچنے پر مجبور کیا گیا، مشہور بھارتی اداکارہ کا انکشاف
ٹی وی اسکرین پر اکثر منفی کرداروں میں نظر آنے والی بھارتی اداکارہ جیا بھٹاچاریہ نے پہلی بار اپنے ماضی کے ایسے کربناک پہلو بے نقاب کیے ہیں جنہوں نے ان کے مداحوں کو حیران اور افسردہ کر دیا ہے۔
جیا بھٹاچاریہ کے مطابق بچپن میں انہیں اپنی ہی والدہ کے ہاتھوں جسمانی اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، اور پیسوں کی خاطر زبردستی شوبز کی دنیا میں دھکیلا گیا۔
جیا نے مشہور ڈرامے ’’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘‘ میں ’’’پائل‘‘‘ کا کردار نبھایا تھا، انھوں نے بتایا کہ ان کی اصل زندگی اسکرین کی چمک دمک سے بالکل مختلف تھی۔ گھر میں والدین کی ناچاقی کا سارا بوجھ اُن پر ڈالا جاتا تھا۔ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ اُن کی والدہ خود ادھورے خوابوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھیں، اسی لیے وہ بیٹی پر بھی سختی کرتی رہتیں۔
اداکارہ کے مطابق انہیں ہنٹر، چمٹے، بیلن اور جوتوں سے مارا جاتا تھا، یہاں تک کہ وہ اکثر ان کے جسم پر چوٹوں کے زخم ہرے رہتے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ سب اُنہیں اندر سے توڑتا گیا اور انہیں انتہائی ضدی بنا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اُن کی ماں نہ صرف گھر میں تشدد کرتی تھیں بلکہ دوسروں کے سامنے بھی انہیں جھڑکتی اور شرمندہ کرتیں۔
جیا بھٹاچاریہ نے انکشاف کیا کہ ان کا کبھی شوبز میں آنے کا ارادہ نہیں تھا، مگر گھر والوں نے پیسوں کے لیے انہیں کیمرے کے سامنے کھڑا کر دیا۔ انہیں نہ صرف ناچنے پر مجبور کیا گیا بلکہ بعض اوقات مردانہ کردار نبھانے کی بھی ہدایت دی جاتی۔ اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ انڈسٹری میں انہیں کاسٹنگ کاؤچ اور استحصالی رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک ڈائریکٹر کا ایسا دوست جو مافیا سے تعلق رکھتا تھا، بار بار اُن کے گھر آنے لگا اور انہیں ممبئی لے جانے کی پیشکش کرتا رہا جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔
اپنی زندگی کے ایک اور سخت موڑ کا ذکر کرتے ہوئے جیا نے بتایا کہ نویں جماعت میں جب والد ریٹائر ہوئے تو والدہ جہیز کی فکر میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئیں اور گھر میں جھگڑے بڑھنے لگے۔ اس ماحول سے تنگ آکر وہ گھر چھوڑ کر ہری دوار چلی گئیں۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی والدہ سے شدید ناخوش تھیں مگر جب والدہ بیمار ہوئیں تو اپنی تمام جمع پونجی ان کے علاج پر خرچ کردی، باوجود اس کے کہ والدہ ہمیشہ بیٹی کے بجائے بیٹے کی خواہش رکھتی تھیں۔
2000 میں جب جیا کو ایکتا کپور کے ڈرامے ’’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘‘ میں کردار ملا، تو اُن کی زندگی میں نیا موڑ آیا، مگر یہ شہرت بھی انہیں وہ عزت نہ دلا سکی جس کی وہ حقدار تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ سیٹ پر سب سے کم معاوضہ لینے والی اداکارہ تھیں، اور منفی کردار کے باعث لوگ انہیں حقیقت میں بھی برا سمجھنے لگے۔
ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک بار ایک ریسٹورنٹ میں مداح نے انہیں دھکا دے کر ’’گندی عورت‘‘ کہا اور حاملہ سمرتی ایرانی کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنا سفر جاری رکھا۔ حال ہی میں وہ نیٹ فلکس کی مقبول سیریز ’’دہلی کرائم سیزن 3‘‘ میں نظر آئیں، جہاں ان کی اداکاری کو خوب سراہا گیا۔