data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251016-08-22
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں مودی سرکار نے مسلمانوں کا اپنے نبی آخری الزماں حضرت محمدﷺ سے اظہارِ محبت کرنا بھی جرم بنا دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مسلمانوں نے مختلف ریاستوں میں ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ پر مبنی بل بورڈز اور بینرز آویزاں کیے تھے۔ جو ہندو انتہاپسندوں کو ایک آنکھ نہ بھائے۔ جس کے بعد مختلف ریاستوں میں پولیس نے اس جملے کو مذہبی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے ڈھائی ہزار سے زاید مسلمانوں کے خلاف مقدمات قائم کیے ہیں جن میں سے متعدد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ یہ معاملہ پہلی بار اْس وقت سامنے آیا تھا جب ریاست اتر پردیش کے شہر کانپور میں میلاد النبی کے موقع پر بعض مقامات پر ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ کے بورڈز آویزاں کیے گئے تھے۔ مقامی ہندو تنظیموں نے اعتراض اٹھایا کہ یہ اقدام مذہبی اشتعال کا باعث بن سکتا ہے جس پر حکام نے کارروائی شروع کی اور کئی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ اسی دوران بعض گھروں کو بلڈوز کر کے منہدم بھی کر دیا گیا۔ کانپور سے شروع ہونے والا یہ معاملہ اب دیکھتے ہی دیکھتے دیگر ریاستوں جیسے تلنگانہ، مہاراشٹرا، گجرات اور اتر کھنڈ تک پھیل گیا جہاں پولیس نے مزید گرفتاریاں کیں۔ کئی شہروں میں مسلمانوں نے احتجاج کیا تو مظاہروں کو روکنے کے لیے مزید سخت اقدامات کیے گئے۔ بریلی میں احتجاج کے بعد درجنوں افراد گرفتار ہوئے اور ایک مسجد کے امام سمیت چار شہریوں کی املاک مسمار کر دی گئیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر ’’آئی لو محمد ﷺ‘‘ لکھی ہوئی ٹی شرٹس ہورڈنگز اور دیواروں کی تصاویر وسیع پیمانے پر گردش کر رہی ہیں۔ مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کیا بھارت میں عشقِ رسول پر مبنی جملہ بھی اب ایک جرم سمجھا جائے گا۔ یہ مذہبی آزاد ی اور آزادی اظہار رائے کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا ئی لو محمد ﷺ

پڑھیں:

فاروق رحمانی کی جموں میں صحافی کے گھر کو مسمار کرنے کی مذمت

انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جرات مندانہ آوازوں کو طاقت کے بل پر دبانے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سینئر رہنما اورجموں و کشمیر پیپلز فریڈم لیگ کے چیئرمین محمد فاروق رحمانی نے جموں شہر میں صحافی ارفاز احمد کے گھر کی مسماری کی مذمت کرتے ہوئے بہیمانہ کارروائی کو مقبوضہ علاقے کی اصل تصویر سامنے لانے والے صحافیوں کو دیوار کے ساتھ لگانے کی مودی حکومت کی منصوبہ بند سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محمد فاروق رحمانی نے اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں کہا کہ بغیر کسی معقول وجہ اور کسی پیشگی اطلاع کے بغیر گھر کی مسماری شدید ناانصافی اور ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جرات مندانہ آوازوں کو طاقت کے بل پر دبانے کی مذموم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا حکومت کی طرف سے مسلمانوں کے گھروں ،دکانوں کو جلانا، ان کے گلے کاٹنا اور بے قصور لوگوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کا مقصد تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں، طلباء، تاجروں کی زندگی کو جہنم بنایا اور مالی لحاظ سے مشکلات کا شکار کرنا ہے۔ محمد فاروق رحمانی نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں قائم نیشنل کانفرنس کی حکومت بی جے پی حکومت کی نسل پرستانہ پالیسیوں کو روکنے اور کشمیریوں کے مفادات کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مظلوم کشمیریوں کےخلاف جاری جابرانہ بھارتی پالیسیوں کے خلاف عملی اقدامات کریں۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں امتیازی سلوک کے بڑھتے واقعات نے مسلمانوں میں تشویش کی لہر پیدا کر دی: ایرانی میڈیا
  • کلاس روم سے گلیوں تک: بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ خوفناک سلوک کی رپورٹ جاری
  • فاروق رحمانی کی جموں میں صحافی کے گھر کو مسمار کرنے کی مذمت
  • جرائم کا سدباب کرنا ہے تو مجرموں کے سرپرست حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی،پروفیسر محمد ابراہیم
  • بھارت نے پاکستانی ڈرامے بلاک کردیے
  • عالمی مقابلہ حسن قرآت کے شرکا کے اعزاز میں سینٹر طلحہ محمود کا عشائیہ
  • قابض انتظامیہ نے کشمیری صحافی عرفاز دانگ کا گھر مسمار کر دیا
  • مودی دور میں ہندوتوا نظریہ مضبوط، اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہوگئیں
  • اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے ساتھ عالمی قرأت مقابلہ کے شرکاء میں اسناد اور شیلڈز تقسیم کر رہے ہیں
  • کالعدم مذہبی جماعت کے 181 کارکنان کو رہا کرنیکا حکم