data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ بیت المقدس: قابض صہیونی ریاست نے امن معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے  ایک بار پھر عالمی کوششوں کو روند کر اپنی جارحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ پر بمباری  کرکے الزیتون کے علاقے میں ایک ہی فلسطینی خاندان   کے گیارہ افراد کو شہید کردیا، جس میں 7 بچے اور تین خواتین بھی شامل تھیں۔

قابض فوج کی اس جارحیت کا نشانہ بننے والے یہ فلسطینی اپنے گھر واپس لوٹ رہے تھے کہ اچانک ان کی گاڑی کو فضائی حملے کا نشانہ بنا دیا گیا اور  لمحوں میں سب کچھ ملبے میں تبدیل ہو گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے کسی پیشگی وارننگ کے بغیر غزہ شہر کے گنجان آباد علاقے الزیتون میں کار پر میزائل داغا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اردگرد کے گھروں کے شیشے بھی چکنا چور ہوگئے۔ مقامی افراد نے زخمیوں کو ملبے سے نکالنے کی کوشش کی لیکن گاڑی میں سوار تمام افراد موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب چند روز قبل ہی مصر کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے درمیان جنگ بندی طے پائی تھی،  تاہم اسرائیلی فورسز کی جانب سے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی امن معاہدے کی کھلی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور یہ حملہ اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔

فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کی اس کارروائی نے واضح کر دیا ہے کہ صہیونی ریاست کسی امن معاہدے کی پابند نہیں، بلکہ وہ جان بوجھ کر انسانی جانوں کے ساتھ کھیل رہی ہے۔

حماس کے ترجمان نے اس وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ امن معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور فلسطینی عوام کے خلاف دہشت گردی کی تازہ مثال ہے۔ اسرائیل مسلسل نہتے شہریوں، بچوں اور عورتوں کو نشانہ بنا کر اپنے وحشیانہ عزائم کو واضح کر رہا ہے، جب کہ عالمی طاقتیں مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فوری طور پر کارروائی کریں اور اسرائیل کو جنگی جرائم پر جواب دہ بنایا جائے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اسرائیلی حملے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ اداروں نے اپنے بیانات میں کہا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے رہائشی علاقوں پر بمباری عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ان تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر سفارتی اور قانونی دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ معصوم فلسطینیوں کے قتلِ عام کو روکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امن معاہدے کی

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم