غزہ کو فوری بحالی اور امن کی ضرورت ، ترکیہ دیرپا حل کیلیے کوشاں ہے، رجب طیب اردگان
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ غزہ کو فوری طور پر بحالی اور شفا کی ضرورت ہے، ترکی یہ یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان موجودہ معاہدہ دیرپا امن کی بنیاد بنے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق استنبول میں پانچویں ترکی اورافریقہ بزنس اینڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ اسرائیل کے ماضی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ہمیں محتاط رہنا ہوگا کیونکہ غزہ کو فوری طور پر بحالی اور تعمیرِ نو کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے اور موجودہ معاہدے کو ایک دیرپا سیاسی حل کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ غزہ کے عوام کو دوبارہ ایک پرامن زندگی میسر آ سکے۔
اردوان نے اپنے خطاب میں سوڈان کی جاری خانہ جنگی کا بھی ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کو وہاں ہونے والی جھڑپوں اور انسانی المیے پر گہری تشویش ہے، ہم سوڈان میں فائر بندی اور پائیدار امن کے قیام کی امید رکھتے ہیں، کیونکہ وہاں خونریزی کا خاتمہ انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مغربی دنیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے مغرب افریقہ میں خانہ جنگیوں اور تنازعات کو براعظم کی تقدیر سمجھ بیٹھا ہے، حالانکہ وہاں کے عوام امن، استحکام اور ترقی کے خواہاں ہیں۔
ترک صدر نے زور دیا کہ دنیا کو غزہ اور سوڈان دونوں کے انسانی بحرانوں پر فوری توجہ دینی چاہیے اور عالمی طاقتوں کو انصاف، ہمدردی اور انسانی بنیادوں پر فیصلے کرنے چاہییں تاکہ ان خطوں میں حقیقی امن قائم ہو سکے۔
خیال رہے کہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔