بھارت کے بعد افغانستان کی ہٹ دھرمی سامنے آ گئی، پاکستان میں کھیلنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
افغانستان نے پاکستان میں شیڈول سہ ملکی کرکٹ سیریز میں شرکت سے انکار کرکے ایک نیا سفارتی اور کھیلوں کا تنازع کھڑا کردیا ہے۔
افغان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث ٹیم اب نومبر میں پاکستان کا دورہ نہیں کرے گی۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے افغانستان اور سری لنکا کے ساتھ سہ ملکی سیریز کے انتظامات تقریباً مکمل کر لیے تھے۔
اس اہم سیریز کا پہلا میچ 17 نومبر کو راولپنڈی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے تھا جب کہ دوسرا میچ 19 نومبر کو سری لنکا اور افغانستان کے درمیان اسی گراؤنڈ میں ہونا تھا۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں باقی 5 میچز اور 29 نومبر کو فائنل شیڈول تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان کرکٹ بورڈ کے مطابق حالیہ سرحدی کشیدگی اور سیاسی حالات کے پیش نظر ٹیم کا پاکستان جانا موزوں نہیں سمجھا گیا۔ بورڈ نے مزید کہا کہ افغان ٹیم دیگر بین الاقوامی مصروفیات پر توجہ دے گی اور مستقبل میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی صورت میں دوبارہ کھیلنے پر غور کیا جائے گا۔
ماہرین اور شائقین کا کہنا ہے کہ افغانستان کا یہ فیصلہ نہ صرف کھیل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ جنوبی ایشیائی کرکٹ تعلقات پر بھی منفی اثر ڈالے گا۔ تجزیہ کاروں نے اسے بھارت کے اثر و رسوخ کا نتیجہ قرار دیا ہے، جو حالیہ برسوں میں افغان کرکٹ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب پی سی بی نے سیریز کے شیڈول پر نظرثانی شروع کر دی ہے اور امکان ہے کہ سری لنکا کے ساتھ دو طرفہ سیریز یا کوئی متبادل ٹیم شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔