Jasarat News:
2026-07-24@09:01:32 GMT

بین الاقوامی سرمایہ کاری اور سی پیک؛ ترقی یا قرض کا جال؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی موقع، لیکن کیا ہم اسے دانشمندی سے استعمال کر پائیں گے؟ قومیں مواقع ضائع کرنے سے نہیں بلکہ ان کے درست استعمال نہ کرنے سے زوال پذیر ہوتی ہیں۔ یہی نکتہ آج پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبے سی پیک پر صادق آتا ہے۔ یہ صرف ایک اکنامک کاریڈور نہیں بلکہ ایک معاشی وژن ہے، جو پاکستان کے روشن مستقبل اور ترقی کی راہیں متعین کر سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع کو ترقی میں ڈھال پائیں گے یا یہ قرضوں کا جال بن جائے گا؟

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے عالمی سیاست و معیشت میں نمایاں کرتی رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع یہ ملک گوادر بندرگاہ کے ذریعے عالمی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے سب سے بڑے منصوبے کے طور پر سی پیک کا انتخاب کیا۔ اس منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 62 ارب ڈالر بتائی جاتی ہے، جس میں توانائی، شاہراہیں، ریل منصوبے اور گوادر کی ترقی شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں وزیر ِاعظم کے دورۂ چین کے دوران 8.

5 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے۔ یہ سرمایہ کاری زراعت، توانائی، صنعت، صحت اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبوں میں تقسیم کی گئی ہے۔ زراعت میں ہائبرڈ بیج، ڈرون ٹیکنالوجی اور اسمارٹ فارمنگ کے منصوبے شامل ہیں۔ توانائی میں شمسی اور ہوائی بجلی کے منصوبے متعارف ہوں گے تاکہ مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو۔ صنعت میں اسپیشل اکنامک زونز، اسٹیل ملز اور جدید کارخانے، صحت میں بائیوٹیک ریسرچ اور اسپتال، جبکہ ٹرانسپورٹ میں مقامی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو فروغ دیا جائے گا۔

یہ سرمایہ کاری پاکستان کے لیے کئی حوالوں سے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، توانائی بحران میں کمی آئے گی، صنعتی برآمدات بڑھنے سے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا، اور گوادر کے ذریعے پاکستان خطے کا تجارتی مرکز بن سکتا ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق صرف اگلے پانچ برسوں میں 20 لاکھ سے زائد براہِ راست و بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں۔ پاکستان پہلے ہی 100 ارب ڈالر سے زائد کے بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اگر منصوبوں میں شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ سرمایہ کاری قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ سیاسی عدم استحکام، پالیسی میں تسلسل کی کمی، ماحولیاتی خطرات اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت نہ ہونا مستقبل میں بڑی رکاوٹیں بن سکتی ہیں۔

سی پیک کا اصل فائدہ تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب ٹیکنالوجی کی منتقلی یقینی بنائی جائے، تعلیمی اداروں کو صنعت سے جوڑا جائے تاکہ نوجوان جدید ہنر سیکھ سکیں، اور پالیسیوں میں تسلسل قائم رکھا جائے۔ اگر ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیا تو پاکستان خطے کا معاشی پل بن سکتا ہے۔ سی پیک پاکستان کے لیے ایک نایاب موقع ہے۔ یہ محض سڑکوں اور بجلی گھروں کا منصوبہ نہیں بلکہ معاشی خودکفالت کی طرف ایک قدم ہے۔ لیکن اس کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس دانشمندی اور شفافیت کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں۔ اگر ہم نے یہ موقع گنوا دیا تو سی پیک قرضوں کا جال بن جائے گا، لیکن اگر ہم نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا تو یہ پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوگا۔

کل ابتدائی لاگت (2013ء): 62 ارب ڈالر
بیجنگ معاہدے (2025ء): 8.5 ارب ڈالر
اہم شعبے: زراعت، توانائی، صنعت، صحت، الیکٹرک گاڑیاں۔
روزگار کے مواقع: متوقع 20 لاکھ براہِ راست و بالواسطہ۔
توانائی کا بوجھ: پاکستان کا 30 فی صد زرمبادلہ تیل و گیس پر خرچ۔
برآمدات میں اضافہ: 15–20 فی صد تک متوقع۔

اہم مرکز: گوادر بندرگاہ مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور چین کے درمیان پل ’’فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے؛ سی پیک یا تو ہمیں قرض کے اندھیروں میں دھکیل دے گا یا پھر ترقی کے روشن چراغ جلائے گا۔ اب یہ قوم کی دانشمندی پر منحصر ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتی ہے‘‘۔

دلشاد عالم سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری پاکستان کے ارب ڈالر سکتا ہے کے لیے سی پیک

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔

آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔

دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار

مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔

حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔

Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS

— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026

جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔

عالمی منڈیوں میں بھی مندی

عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔

مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ