سرینگر میں گفتگو کرتے ہوئے حریت رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں اوپن میرٹ کے حامل نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے جن کا مستقبل غیر متوازن ریزرویشن کی وجہ سے دائو پر لگا ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریزرویشن کا موجودہ نظام جانبدارانہ ہے اور مستحق امیدواروں کو روزگار کے منصفانہ مواقع سے محروم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن کے معاملے کو انصاف اور مساوی مواقع کے کیس کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اوپن میرٹ کے حامل نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے جن کا مستقبل غیر متوازن ریزرویشن کی وجہ سے دائو پر لگا ہوا ہے، بے روزگاری کا بحران پہلے ہی موجود ہے اور یہ عدم توازن حالات کو مزید خراب کر رہا ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ ریزرویشن پالیسی کا مقصد پسماندہ طبقات کی بہتری ہے لیکن یہ ان لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے جو تعلیمی لحاظ سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اوپن میرٹ کے امیدواروں کو ناانصافی کا سامنا ہے۔ اچھے نمبر اور اچھے گریڈ حاصل کرنے والے نوجوانوں کو صرف اس لیے نہیں چھوڑنا چاہیے کہ وہ اوپن میرٹ سے آتے ہیں اور غیر منصفانہ ریزرویشن کی وجہ سے کسی اور کو ان کا حق دیا جائے، یہ ناانصافی ہے۔ میر واعظ نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ بات کریں اور ایک تعمیری بحث میں حصہ لیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مواقع کی منصفانہ تقسیم ہو۔ معاشرے کے ہر طبقے کو اس مسئلے پر بات کرنی چاہیے۔ یہ کسی کے خلاف نہیں ہے، یہ انصاف، میرٹ اور مساوات کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوان پہلے ہی محدود ملازمتوں کے مواقع، بھرتی کے سست عمل اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھرتی میں میرٹ کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف افراد کو متاثر کرتا ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی مجموعی ترقی کو بھی کمزور کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اوپن میرٹ میر واعظ

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی