ریزرویشن کے موجودہ نظام سے مستحق امیدوار ملازمت کے منصفانہ مواقع سے محروم ہو رہے ہیں، میرواعظ
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
سرینگر میں گفتگو کرتے ہوئے حریت رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں اوپن میرٹ کے حامل نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے جن کا مستقبل غیر متوازن ریزرویشن کی وجہ سے دائو پر لگا ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریزرویشن کا موجودہ نظام جانبدارانہ ہے اور مستحق امیدواروں کو روزگار کے منصفانہ مواقع سے محروم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن کے معاملے کو انصاف اور مساوی مواقع کے کیس کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اوپن میرٹ کے حامل نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے جن کا مستقبل غیر متوازن ریزرویشن کی وجہ سے دائو پر لگا ہوا ہے، بے روزگاری کا بحران پہلے ہی موجود ہے اور یہ عدم توازن حالات کو مزید خراب کر رہا ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ ریزرویشن پالیسی کا مقصد پسماندہ طبقات کی بہتری ہے لیکن یہ ان لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے جو تعلیمی لحاظ سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اوپن میرٹ کے امیدواروں کو ناانصافی کا سامنا ہے۔ اچھے نمبر اور اچھے گریڈ حاصل کرنے والے نوجوانوں کو صرف اس لیے نہیں چھوڑنا چاہیے کہ وہ اوپن میرٹ سے آتے ہیں اور غیر منصفانہ ریزرویشن کی وجہ سے کسی اور کو ان کا حق دیا جائے، یہ ناانصافی ہے۔ میر واعظ نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیا کہ وہ بات کریں اور ایک تعمیری بحث میں حصہ لیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مواقع کی منصفانہ تقسیم ہو۔ معاشرے کے ہر طبقے کو اس مسئلے پر بات کرنی چاہیے۔ یہ کسی کے خلاف نہیں ہے، یہ انصاف، میرٹ اور مساوات کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوان پہلے ہی محدود ملازمتوں کے مواقع، بھرتی کے سست عمل اور معاشی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھرتی میں میرٹ کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف افراد کو متاثر کرتا ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی مجموعی ترقی کو بھی کمزور کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اوپن میرٹ میر واعظ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔