اسلام ٹائمز کیساتھ خصوصی اپنے خصوصی انٹرویو میں مفتی اعظم جموں و کشمیر اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کشمیر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں حالیہ جنگ بندی معاہدہ صرف ایک مذاق، دھوکہ اور فریب ہے، کیونکہ اسرائیل اور امریکہ پر ہرگز بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںمفتی اعظم جموں و کشمیر مولانا مفتی ناصر الاسلام جموں و کشمیر شرعی عدالت عظمٰی مرکز الافتاء و القضاء کے سربراہ اور جموں و کشمیر ’’مسلم پرسنل لاء بورڈ‘‘ کے صدر ہیں، اس عدالت شرعی کا قیام 1571ء میں معرض وجود آیا۔ مفتی بشیر الدین فاروقی کے انتقال کے بعد آپ اس عدالت عظمیٰ شرعیہ کشمیر کے سربراہ کے طور پر اپنے دینی فرائض انجام دے رہے ہیں، عدالت شرعی کے ذریعے جموں و کشمیر کی عوام کے سالانہ ہزاروں کیسز سنے جاتے ہیں اور انکا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ مفتی ناصر الاسلام جموں و کشمیر رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ مفتی ناصر الاسلام نے اپنی عمر کا طویل عرصہ عرب امارات میں گزارا ہے۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے مفتی ناصر الاسلام سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جس دوران انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ایک خاص منصوبے و سازش کے تحت بے حیائی، بے راہ روی، شراب اور منشیات کو عام کیا جا رہا ہے، اس لئے نوجوانوں کو آگے آکر کشمیر سے منشیات کی وباء کا خاتمہ کرنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں حالیہ جنگ بندی معاہدہ صرف ایک مذاق، دھوکہ اور فریب ہے، کیونکہ نتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ انتہائی مکار ہیں، ان پر ہرگز بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو امن اور شانتی یا "نوبل انعام" سے کوئی دور کا واسطہ نہیں ہے بلکہ وہ احمق ترین انسان ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، لیکن اسے امریکہ کی برابر سرپرستی حاصل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک واحد ملک ہے، جس نے ہمیشہ آگے آکر فلسطین کاز کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مظلوم قوم کی دادرسی ہونی چاہیئے۔ مفتی اعظم کشمیر نے مزید کہا کہ اتحاد اسلامی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اتحاد سے ہی ہم دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)

https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial  

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مفتی ناصر الاسلام انہوں نے کہا کہ مفتی اعظم

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی