نیلی آنکھوں والے بچے کی پیدائش کے لیے خاتون نے اپنی ہی آنکھیں تبدیل کروالیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
روس میں ایک خاتون نے نیلی آنکھوں والے بچے کی خواہش میں اپنی ہی آنکھوں کا رنگ تبدیل کروا لیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک روسی خاتون نے ایک غیر مجاز کاسمیٹک سرجری کرائی، جس میں ”آئرس امپلانٹ“ کے ذریعے آنکھوں کا رنگ مصنوعی طور پر نیلا کیا گیا۔ یہ طریقہ نہ صرف قانونی طور پر متنازع ہے بلکہ طبی طور پر بھی انتہائی خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
خاتون کا خیال تھا کہ اگر وہ خود نیلی آنکھوں والی بن جائیں تو ان کے آئندہ بچے کی آنکھیں بھی نیلی ہوں گی۔ تاہم، ماہرین نے اس نظریے کو غیر سائنسی اور خطرناک قرار دیا ہے۔
اس سرجری کے دوران آنکھ کے قدرتی نظام میں بیرونی مواد داخل کیا جاتا ہے، جو طویل مدت میں بینائی کی کمزوری، کارنیا کے نقصان یا حتیٰ کہ مکمل طور پر اندھے پن کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرینِ جینیات کا کہنا ہے کہ بچے کی آنکھوں کا رنگ صرف جینیاتی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جو والدین کے جینز کے امتزاج سے طے ہوتا ہے۔ کسی بالغ فرد کی سرجری یا جسمانی تبدیلیاں مستقبل میں ہونے والی اولاد کے جینیاتی کوڈ پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتیں، یعنی اس خاتون کی سرجری کا بچے کی آنکھوں کے رنگ سے کوئی تعلق نہیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین نے اس دعوے پر حیرت اور طنز کا اظہار کیا، ایک صارفہ نے کہا کہ میں نے حمل سے پہلے لیزر سے بال ہٹائے تاکہ میرے بچے بغیر بال کے پیدا ہوں۔ ایک اور صارف نے طنزاً کہا کہ میں نے جرمن زبان سیکھی تاکہ میرے بچے پیدائش سے ہی اسے جان لیں، میرا خدا، میں کتنی ہوشیار ہوں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس قسم کی آئرس کلر سرجریاں کئی ممالک میں غیر قانونی قرار دی جا چکی ہیں، کیونکہ یہ مستقل نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بچے کی
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔