ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے ، شہباز شریف اسے امن کا نوبل انعام دینے کی بات کر رہے ہیں، آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ،بڑے لوگوں کی خواہش پر آئینی ترامیم ہو رہی ہیں

افغان پالیسی پر پاکستان کی سفارت کاری ناکام رہی، جنگ کی باتوں سے مسئلے حل نہیں ہوں گے ، پاکستان اور افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے ،سربراہ جے یو آئی کا خطاب

مردان (بیورو رپورٹ)جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اپنا راستہ تبدیل نہیں کریں گے ، ضرورت پڑی تو اسلام آباد کا رخ کریں گے ، ملک کوامن، بھائی چارے اور آزادی کی علامت ہونا چاہیے تھا، عوام کو حقوق دینا حکومتوں کی ذمہ داری ہے ، آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے ، عوام کی خواہشات کے بجائے بڑے لوگوں کی خواہش پر آئینی ترامیم ہو رہی ہیں، افغان پالیسی پر پاکستان کی سفارت کاری ناکام رہی، جنگ کی باتوں سے مسئلے حل نہیں ہوں گے ، پاکستان اور افغانستان کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہیے ، ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے اور شہباز شریف ٹرمپ کو امن کا نوبل انعام دینے کی بات کر رہے ہیں،عمران کی ذات سے نہیں اس کی پالیسیوں سے اختلاف تھا۔ اتوار کو جامعہ اسلامیہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پاکستان ان امیدوں پر حاصل کیا گیا تھا کہ یہاں اسلام کا بول بالا ہوگا ،حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ملک میں عام آدمی کو ان کے حقوق دیں ،خوشحال معیشت کا مکمل نظام رائج کریں ۔ انہوںنے کہاکہ آج آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے ،طاقتوروں کے منشاء پر ان کے مفادات کے لئے پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے ،عوام کی خواہشات پر شب خون مارا جاتا ہے ،جمہوری ماحول کو اس لئے پسند کیا کہ اس ماحول میں اپنے نظریات کو فروغ دیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ گذشتہ برس ایک آئینی ترمیم کی گئی جس میں جے یو آئی فریق تھی،اس ترمیم میں سود کے خاتمے ، وفاقی شرعی عدالت کو طاقتور بنانے ، اسلامی نظریاتی کو نسل کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کے لئے آئین کا حصہ بنا یا ،دینی مدارس کے رجسٹریشن کے لئے راستہ کھولا،ایک سال ہوا رجسٹریشن نہیں ہوئی،اصل مدارس کی رجسٹریشن زیر التواء ہے ،اب جو ترمیم پاس ہوئی اس میں کیا قانون پاس ہوا اور کیوں ہوئے ؟ ۔ انہوںنے کہاکہ لوگوں کو خرید کر دو تہائی اکثریت بنائی گئی۔ ،جب دارومدار جے یوآئی کے ووٹ پر تھا تو ہم نے وہ قانون پاس کیا ،اب جعلی اکثریت سے ترمیم کی گئی تو قانون پاس ہوا کہ پاکستان کا ہر شہری اپنی جنس تبدیل کرسکتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ 18 سال سے کم عمر کو بالغ تصور نہیں کیا جائیگا، یہ دین اسلام کے ساتھ کھلا مذاق ہے ،اگر اٹھارہ سال سے کم عمر شادی ہوئی تو زنا بالجبر تصور ہونے کے ساتھ ساتھ اولا جائز تصور ہوگی ،یہ معاشرے قانون اور اسلام کے ساتھ مذاق ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جے یو آئی اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ بنگلہ دیش معاشی میدان میں ترقی کرچکا ہے ،ہماری کرنسی اب ٹکے کی نہیں ۔ انہوںنے کہاہک عمران سے گلہ تھا کہ وہ مغربی دنیا کا ایجنٹ ہے ۔لیکن آج کے حکمران کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اس ایجنڈے کو تسلسل نہیں دیا ؟ بلکہ اس کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ ۔ انہوںنے کہاکہ سی پیک عمران خان نے بند کیا تھا لیکن کیا اب سی پیک میں ایک اینٹ بھی لگائی گئی ؟ ،جرنیل کے مراعات اور ایکسٹینشن کے قوانین کل بھی بنتے تھے آج بھی بنتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ،مدارس رجسٹریشن کل بھی بند تھی آج بھی بند ہے ،سی پیک کل بھی بند تھا آج بھی بند ہے ،یہ حکمران اسی پالیسی کا تسلسل ہے ۔ ۔ انہوںنے کہاکہ عمران کی ذات سے نہیں اس کی پالیسیوں سے اختلاف تھا۔ انہوںنے کہاکہ اگر ان کے خلاف تحریک چلائی تھی تو آج بھی چلائیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ افغان پالیسی ناکام ہے ،78 سال میں پاکستان افغانستان کو دوست نہیں بنا سکا۔ انہوںنے کہاکہ تم صرف جنگ جانتے ہو،یہ مسئلہ آپ حل نہیں کرسکتے ،دونوں ملکوں میں جنگ نہیں ہونی چاہیے انہوںنے کہاکہ پاکستان میں مسلح جنگ نہیں ہونی چاہیے ، خطے میں امن کے لئے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان