پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ صوبے میں پہلے سے ذبح شدہ مرغی کے گوشت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق ایسی کوئی ہدایت یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، یہ خبر بے بنیاد اور محض افواہ ہے۔

ترجمان نے وضاحت کی کہ صارفین اور گوشت فروخت کرنے والوں کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے پہلے ہی تفصیلی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، جنہیں تمام میٹ شاپس پر آویزاں کرنا لازمی ہے۔

شہری مزید معلومات فوڈ اتھارٹی کی ویب سائٹ یا فیس بک پیج سے حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت اور صحت بخش خوراک کے فروغ کے لیے مرغی کو ممکنہ طور پر سامنے ذبح کروانے کی ترغیب دی جاتی ہے، تاہم تیار گوشت پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔

ترجمان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ صرف آفیشل ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کریں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بنیادی مقصد معیاری، حلال اور صحت بخش خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، اور ادارہ ’فارم سے صارف تک‘ محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

شہری خوراک سے متعلق شکایات یا تجاویز کے لیے ہیلپ لائن 1223 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فوڈ اتھارٹی کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا