افواہوں کی تردید، پنجاب میں تیار گوشت پر پابندی کی خبر بے بنیاد قرار
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
پنجاب فوڈ اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر زیرِ گردش اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ صوبے میں پہلے سے ذبح شدہ مرغی کے گوشت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق ایسی کوئی ہدایت یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، یہ خبر بے بنیاد اور محض افواہ ہے۔
ترجمان نے وضاحت کی کہ صارفین اور گوشت فروخت کرنے والوں کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے پہلے ہی تفصیلی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، جنہیں تمام میٹ شاپس پر آویزاں کرنا لازمی ہے۔
شہری مزید معلومات فوڈ اتھارٹی کی ویب سائٹ یا فیس بک پیج سے حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی سہولت اور صحت بخش خوراک کے فروغ کے لیے مرغی کو ممکنہ طور پر سامنے ذبح کروانے کی ترغیب دی جاتی ہے، تاہم تیار گوشت پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔
ترجمان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ صرف آفیشل ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کریں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا بنیادی مقصد معیاری، حلال اور صحت بخش خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، اور ادارہ ’فارم سے صارف تک‘ محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
شہری خوراک سے متعلق شکایات یا تجاویز کے لیے ہیلپ لائن 1223 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فوڈ اتھارٹی کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔