ہوٹلوں، فاسٹ فوڈ اوربریانی سینٹرز پر مردہ مرغیوں کےگوشت کی سپلائی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
کراچی میں بڑے پیمانے پر مردہ مرغیوں کےگوشت کی سپلائی کا انکشاف ہوا ہے۔ مردہ مرغیوں کا گوشت کراچی کے ہوٹلوں، فاسٹ فوڈ اوربریانی سینٹرز پر سپلائی کیا جاتا تھا۔حکام کے مطابق گلبرگ پولیس نے موسیٰ کالونی ریلوے پھاٹک کے قریب کارروائی کرتے ہوئے 80 کلوگوشت برآمدکیا اور چھاپے میں 2 ملزمان گرفتار بھی گرفتار ہوئے جن کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ اطلاع ملی ایک گودام میں مردہ مرغیوں کا گوشت موجود ہے، ملزمان مردار گوشت کی ترسیل کی تیاری کر رہے ہیں جس پر پولیس نے فوری سندھ فوڈ کنٹرول اتھارٹی کو اطلاع دی اور کارروائی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان مردارگوشت فاسٹ فوڈ سینٹرز، بریانی سینٹرز اور ہوٹلوں کو دیتےتھے جبکہ ملزمان سے مزید تفتیش تاحال جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مردہ مرغیوں
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔