امیگریشن ماہر ابو بکر عادل نے کہا ہے کہ امیگریشن محض نقل مکانی کا عمل نہیں بلکہ صلاحیت، علم اور قیادت کے تبادلے کا ایک اہم ذریعہ ہےآج پاکستان کی افرادی قوت دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔ کارپوریٹ دفاتر اور تحقیقی لیبارٹریوں سے لے کر اسپتالوں اور جامعات تک، پاکستانی ماہرین ایسے اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو حقیقی معنوں میں عالمی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اے پی پی سے گفتگو میں امیگریشن ماہر ابو بکر عادل نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی ہجرت نہیں بلکہ پاکستان کے اثر و رسوخ کا منظم، میرٹ پر مبنی اور قانونی توسیعی عمل ہے جو تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کو عملی بین الاقوامی نتائج میں تبدیل کرتا ہے۔انہوں نے حکومت اور نجی اداروں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر مواقع فراہم کرنے میں ان اقدامات کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ عادل نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کے لیے تیار کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق جب امیگریشن کو منظم طریقے سے انجام دیا جائے تو یہ قیادت، علم کے تبادلے اور مضبوط قومی شناخت کو فروغ دیتی ہے۔ یہ پاکستانی ماہرین کو بیرون ملک اپنا مستقبل بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے جبکہ ملک کی عالمی ساکھ کو بھی بہتر بناتی ہے۔امیگریشن کے اس شعبے میں جہاں اکثر غیر حقیقی وعدے کیے جاتے ہیں، ابو بکر عادل ایک متوازن اور دیانتدار آواز کے طور پر ابھرے ہیں۔ ان کا نتیجہ خیز انداز شفافیت، درستگی اور ذمہ داری پر مبنی ہے، جو کھوکھلے دعوؤں کے بجائے دیانتدار تجزیے کو ترجیح دیتا ہے۔ سپیریئر کنسلٹنگ گلوبل، ان کی قیادت میں، بین الاقوامی روزگار کے مواقع اور تعلیمی نظاموں پر تفصیلی تجزیے فراہم کر رہا ہے، جس سے امیگریشن کنسلٹنسی میں پیشہ ورانہ معیار قائم ہو رہا ہے۔عادل کا انداز خاص طور پر آئی ٹی ماہرین کے لیے مؤثر ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ غیر حقیقی دعووں کے بجائے اپنی اصل کامیابیوں پر توجہ دیں۔درخواست دہندگان کو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے معتبر ثبوت پیش کریں، جیسے نمایاں منصوبے، اوپن سورس شراکتیں، تحقیقی اشاعتیں، اور قابل اعتماد سفارشات۔ مقصد اپنی اسناد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا نہیں بلکہ اپنے کام کو ایسے نتائج کے ذریعے پیش کرنا ہے جن پر پالیسی ساز اعتماد کر سکیں۔یہی اصول، عادل کے مطابق، ڈاکٹروں اور طبی ماہرین پر بھی لاگو ہوتے ہیں جو بیرون ملک رجسٹریشن کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تربیتی ریکارڈ، آڈٹ رپورٹس، اور مسلسل پیشہ ورانہ ترقی (CPD) کے شواہد کو میزبان ممالک کے ضوابط کے مطابق ہم آہنگ کرنا چاہیے۔شارٹ کٹس بظاہر آسان لگ سکتے ہیں مگر یہ پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ان کے مطابق، بہتر راستہ وہ ہے جو اعلیٰ تعلیم کو زیر نگرانی عملی تربیت کے ساتھ جوڑتا ہے، تاکہ پیشہ ورانہ دیانتداری برقرار رہے اور پاکستان کے اداروں سے تعلق مضبوط رہے۔عادل نے کہا کہ ایسی تیاری نہ صرف خاندانوں کو مالی و جذباتی دباؤ سے بچاتی ہے بلکہ بیرون ملک پاکستان کے پیشہ ورانہ تشخص کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔“کمزور یا نامکمل درخواستیں نہ صرف فرد کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ نظام کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ان کا عملی اور شفاف انداز پاکستان میں امیگریشن کنسلٹنسی کو ازسرنو متعین کر رہا ہے، اسے منافع پر مبنی دعووں سے نکال کر پالیسی پر مبنی پیشہ ورانہ عمل کی طرف لے جا رہا ہے۔ان تبدیلیوں کے اثرات سرحدوں کے پار نمایاں ہو رہے ہیں۔ جب کوئی پاکستانی سافٹ ویئر انجینئر عالمی کمپنی میں شامل ہوتا ہے تو وہ علم وطن واپس لاتا ہے۔ جب ڈاکٹرز بیرون ملک اعلیٰ تربیت مکمل کرتے ہیں تو وہ نئی تکنیک کے ساتھ مقامی صحت کے معیار کو بلند کرتے ہیں۔ اور جب نوجوان کاروباری افراد بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کرتے ہیں تو وہ پاکستانی سپلائرز اور انجینئرز کے لیے نئے مواقع پیدا کرتے ہیں، یوں پاکستان کی معاشی اور پیشہ ورانہ موجودگی عالمی سطح پر مستحکم ہوتی ہے۔عادل اپنے پیغام کو عام کرنے کے لیے میڈیا، پوڈکاسٹس، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر باقاعدگی سے گفتگو کرتے ہیں، تاکہ امیگریشن کے عمل کو سادہ اور قابل فہم انداز میں بیان کیا جا سکے۔ ان کے بقول،میرا مقصد سب سے مشہور کنسلٹنٹ بننا نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی دیانت اور وضاحت کے اصولوں پر قائم رہنا ہے۔ کامیابی کا معیار تعداد نہیں، بلکہ معیار اور اعتبار ہے۔مہارت، قانون پسندی، اور شفافیت پر مبنی امیگریشن کے فروغ کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد پاکستان کی عالمی شناخت کو نئی جہت دے رہی ہے — جس سے امیگریشن محض نقل مکانی نہیں بلکہ مواقع، ترقی، اور قومی فخر کا پُل بن رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پیشہ ورانہ نہیں بلکہ بیرون ملک کرتے ہیں کے مطابق ہیں بلکہ رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار