عدنان کیسے ’کین ڈول‘ بنے؟، سوشل میڈیا اسٹار نے شہرت کی اصل وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ’کین ڈول‘ کے نام سے شہرت حاصل کرنے والے عدنان نے اپنی مقبولیت کی کہانی اور شخصیت سے متعلق دلچسپ پہلوؤں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کین ڈول کا تصور دراصل عوامی رائے سے ابھرا،جب لوگوں نے ان کے متناسب قد و قامت اور چہرے کے خدوخال کو مشہور کردار ’کین‘ سے تشبیہ دینا شروع کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایمن خان کی دبئی میں کین ڈول سے ملاقات، تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل
کین نے بتایا کہ لوگ مجھے دیکھ کر کہتے تھے کہ آپ کا قد پرفیکٹ ہے، چہرہ پرفیکٹ ہے تو آپ کین کی طرح لگتے ہیں۔ یہ بات میرے لیے ایک مثبت محرک بنی اور میں نے سوچا کہ کیوں نہ اسی پہچان کو ایک برانڈ میں بدلا جائے۔
کین کے مطابق سوشل میڈیا کے فعال استعمال نے ان کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی انہوں نے خود کو ’کین‘ کے طور پرمتعارف کرایا انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ ترکیہ اور روس سمیت دیگر ممالک سے بھی کام کی پیشکش ہوئی اوران کی شہرت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب وہ نے اپنے اندر چھپے فیصل آبادی مزاح کو سامنے لائے تو خوبصورتی اور مزاح کا ایک نیا امتزاج سامنے آیا، جسے ان کے مداحوں نے بے حد سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان بھی ٹک ٹاک پر :”اب جنت مرزا کو گھبرانا چاہیے”
اپنے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے عدنان نے کہا کہ اسکول کے زمانے میں مجھے کافی ٹرول کیا گیا، جس کی وجہ سے اب سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید یا مذاق کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ میں دوسروں کی باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔
اپنی طرزِ زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ابتدا سے ہی اپنی صحت اور ظاہری شکل کا خاص خیال رکھتے ہیں، خصوصاً کھانے پینے میں محتاط رہتے ہیں۔
کین ڈول نے اپنی روحانیت کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ وہ نماز اور روزے کی پابندی کرتے ہیں، اور اپنے چاہنے والوں کو بھی تہجد کی ترغیب دینے کے لیے پیغامات بھیجتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹک ٹاکر سوشل میڈیا انفلیوئنسر کین ڈول یو ٹیوبر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر کین ڈول یو ٹیوبر سوشل میڈیا
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔