کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان بھارتی ہندوتوا گروپوں کے خلاف فوری کارروائی کریں جو مصنوعی ذہانت (AI) اور بوٹ نیٹ ورکس کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور تشدد پر اکسانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ میں مسلمانوں کے شہری حقوق کا دفاع کرنے والی سب سے بڑی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان بھارتی ہندوتوا گروپوں کے خلاف فوری کارروائی کریں جو مصنوعی ذہانت (AI) اور بوٹ نیٹ ورکس کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور تشدد پر اکسانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تنظیم کا یہ بیان واشنگٹن میں قائم سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کی ایک تہلکہ خیز رپورٹ کے بعد آیا ہے جس میں ایک منظم مہم کا پردہ فاش کیا گیا ہے جس میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت پھیلانے کے لئے اے آئی سے تیار کردہ 1,300 سے زیادہ تصاویر اور ویڈیوز استعمال کی جا رہی ہیں جو بھارتی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ اس مصنوعی مواد کو فیس بک، ایکس اور انسٹاگرام جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر 27 ملین سے زیادہ لوگوں نے دیکھا ہے۔ اے آئی سے تیارکردہ اس ڈیجیٹل مہم میں مسلمان خواتین کی فحش تصاویر، بے دخلی اور توہین آمیز بیان بازی، سازشی بیانیے اور تشدد پر اکسانے جیسے اہم نکات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ محقق نبیہ خان نے کہا کہ اے آئی ڈیجیٹل مہم میں تیزی کا باعث بن رہا ہے جو پرانے تعصبات کو پھیلانا آسان بنا رہا ہے اور اس کی شناخت کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین اس مواد کو روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایڈورڈ احمد مچل نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھارت میں ان بوٹ اکائونٹس کے خلاف کارروائی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے جو AI کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی جعلی مہمات مختلف کمیونٹیز کے خلاف حقیقی تشدد کا باعث بن سکتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مسلمانوں کے خلاف نفرت نفرت پھیلانے سوشل میڈیا نے کہا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت