پاکستان کی پہلی خاتون ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ’فیگو‘ کی ٹرسٹی منتخب
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سینئر گائناکالوجسٹ اور پروفیسر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کو عالمی ادارہ فیڈریشن آف گائناکالوجی اینڈ آبسٹیٹرکس (فیگو) کی ٹرسٹی منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والی وہ پہلی پاکستانی خاتون ہیں، جس پر پورا ملک فخر محسوس کر رہا ہے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اپنے اس اہم عہدے کی اہمیت اور فیگو کے انتخابات کے عمل کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایوارڈ طبی شعبے میں ان کی نمایاں خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ وہ اسے صرف اپنی کامیابی نہیں بلکہ بلوچستان اور پاکستان کی میڈیکل کمیونٹی کے لیے بھی بڑا اعزاز سمجھتی ہیں۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے بتایا کہ فیگو کا قیام 1954 میں جنیوا میں ہوا تھا، اور یہ دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے جو گائناکالوجی اور زچگی کے مسائل پر کام کرتی ہے۔ فیگو کی جنرل اسمبلی میں 142 ممالک کی نمائندگی ہوتی ہے، اور صرف 10 نمایاں شخصیات کو ٹرسٹی منتخب کیا جاتا ہے۔ پاکستان تقریباً 82 سال بعد پہلی بار اس موقع پر پہنچا ہے جہاں اس کا کوئی نمائندہ اس عہدے کے لیے منتخب ہوا ہے۔
ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے اس موقع پر پاکستان میں دورانِ زچگی خواتین کی اموات کے بلند تناسب کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ وہ اس عالمی پلیٹ فارم کا بھرپور استعمال کر کے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کی پوری کوشش کریں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عائشہ صدیقہ
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔