پاکستان میں نہ کسی افغانی کی جائیداد رہے گی نہ کوئی افغانی ‘حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی:۔ ریلوے کے وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن امن کی خواہش کو کچھ لوگ کمزوری سمجھنے لگے تھے، اب ریاست نے فیصلہ کرلیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ان کے گھروں میں نشانہ بنایا جائے گا، اب پاکستان میں نہ کسی افغانی کی جائیداد رہے گی نہ کوئی افغانی یہاں رہے گا۔
گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان میں بار بار دہشت گردی پر افغانستان کو دفتر خارجہ کے ذریعے 800 سے زائد مرتبہ احتجاج ریکارڈ کرایا گیا 40 سے زیادہ ڈیلیگیشن افغانستان بھیجے گئے مگر کوئی اثر نہیں ہوا، ہم نے بار بار افغانستان کو سمجھایا لیکن سمجھانے کے باوجود یہ اس وقت بات چیت پر آئے جب پاکستان نے دہشت گردانہ کارروائیوں کا دلیرانہ اور موثر انداز میں جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جب ہم نے قندھار اور کابل میں جا کر ان دہشت گردوں کو مارا تب یہ بات چیت پر آئے انہوں نے واضح کیا کہ ہم ہر اس شخص کا پیچھا کریں گے جو پاکستان میں ہمارے شہدا اور ہمارے شہریوں کا قاتل ہے ہماری پولیس کا قاتل ہے ایسا ناسور جہاں ہوگا اسے وہاں نشانہ بنایا جائے گا ریاست نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔
میں کابل میں گیا ہر جگہ پہ بندوق تھی بندوق کی نوک پر آپ کب تک کابل میں حکومت کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی پہلی حکومت بھی سہولت کار تھی اور خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت بھی ان کی سہولت کار ہے، تحریک انصاف کا سابق چیئرمین کہتا ہے کہ ملکی سلامتی کی صورتحال پر مجھے رہا کیا جائے یہ ہر گز ممکن نہیں ہوگا پاکستان میں انارکی پیدا ہوگی دہشت گردی پیدا ہوگی تو یہ باہر آکر کہے گا وہ امن لے آیا بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو لا کر پاکستان میں کس نے بسایا، پوری دنیا کو بتائیں نا دہشت گردوں کو بھائی کس نے کہا۔
وفاقی وزیر نے کہا پوری دنیا نے دیکھا آپ نے دیکھا کہ ہندوستان پاکستان کے کرکٹ میچ کے دوران جو انہوں نے کیا پاکستانی پرچم کی بے حرمتی کی گئی۔ انہوں نے کبھی بھی پاکستان کو تسلیم نہیں کیا 1947ءسے لے کر اب تک بادشاہ دا ¶د نے ہمیں تسلیم کیا نہ کرزئی نے نہ اشرف غنی نے ہمیں تسلیم کیا۔ یہ جو متقی ہے اس نے ہندوستان کی گود میں بیٹھ کر چند ٹکے اور پانچ ایمبولنس لیکر ان سے مل گئے 13 لوگ ہیں جو ہر ماہ ہندوستان سے کروڑوں ڈال لیتے ہیں یہ ہندوستان سے کہتا ہے کہ میں نو سال کی عمر میں پاکستان آیا اس کے بھائی کی اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں یہاں، پہ یاد رکھیں اب پاکستان میں کسی افغانی کی نہ جائیداد رہے گی نہ وہ یہاں رہے گا، ہاں اگر کسی نے آنا ہے تو ویزا لے کر آئے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔