اسرائیل کے ساتھ جنگ میں میزائل اسلحہ خانہ محفوظ رہا: ایران
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے جنرل محمد رضا نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ میں ایران کا میزائل اسلحہ خانہ محفوظ رہا یہاں تک کہ اس پر کوئی خراش تک نہیں آئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر جنرل محمد رضا نقدی نے اسرائیل دعوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دشمن اس جنگ میں ہمارے 3 فیصد میزائل لانچرز ہی تباہ کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیکنالوجی خالصتاً مقامی ہے اور ہماری تکنیک اتنی سادہ ہے کہ ہم ہزاروں کی تعداد میں لانچرز دوبارہ تیار کرسکتے ہیں، تمام تر معلومات کی فراہمی کے باوجود ہمارے دشمن کو 12 روزہ جنگ میں شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا اسی لیے اس نے جنگ بندی کےلیے درخواست کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں ہمارے پڑوسی ممالک میں امریکی فوجی اڈے، تہران میں موجود غیرملکی سفارتخانے اور خلاء میں سیٹلائٹس سے ہر وقت ہماری معلومات اسرائیل کو فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ خلیج فارس میں پرواز کرتے درجنوں ڈرونز ایران کے اندر ہر وقت مانیٹرنگ کر رہے ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا