اسرائیل کے ساتھ جنگ میں میزائل اسلحہ خانہ محفوظ رہا: ایران
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے جنرل محمد رضا نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ میں ایران کا میزائل اسلحہ خانہ محفوظ رہا یہاں تک کہ اس پر کوئی خراش تک نہیں آئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر جنرل محمد رضا نقدی نے اسرائیل دعوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دشمن اس جنگ میں ہمارے 3 فیصد میزائل لانچرز ہی تباہ کرسکے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیکنالوجی خالصتاً مقامی ہے اور ہماری تکنیک اتنی سادہ ہے کہ ہم ہزاروں کی تعداد میں لانچرز دوبارہ تیار کرسکتے ہیں، تمام تر معلومات کی فراہمی کے باوجود ہمارے دشمن کو 12 روزہ جنگ میں شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا اسی لیے اس نے جنگ بندی کےلیے درخواست کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں ہمارے پڑوسی ممالک میں امریکی فوجی اڈے، تہران میں موجود غیرملکی سفارتخانے اور خلاء میں سیٹلائٹس سے ہر وقت ہماری معلومات اسرائیل کو فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ خلیج فارس میں پرواز کرتے درجنوں ڈرونز ایران کے اندر ہر وقت مانیٹرنگ کر رہے ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔