کراچی – لائنز ایریا میں بجلی کی معطلی کے بعد کے الیکٹرک کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ علاقے میں بجلی ان صارفین کی منقطع کی گئی ہے جو مسلسل عدم ادائیگی کے باعث نادہندہ بن چکے تھے۔ترجمان کے مطابق، لائنز ایریا کے نادہندگان پر واجب الادا رقم 4 ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے، جس کی وجہ سے کے الیکٹرک کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف انہی صارفین کی بجلی منقطع کی گئی ہے جنہوں نے طویل عرصے سے بلوں کی ادائیگی نہیں کی۔
اہلِ علاقہ سے اپیل:
کے الیکٹرک نے علاقہ مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی کے بل بروقت ادا کریں تاکہ علاقے میں بجلی کی فراہمی بحال رکھی جا سکے اور لوڈشیڈنگ میں کمی لائی جا سکے۔
ترجمان نے مزید کہا:وقت پر کی گئی ادائیگیاں نہ صرف بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بناتی ہیں بلکہ علاقے کی لوڈشیڈنگ میں کمی یا مکمل خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب علاقہ مکینوں کی جانب سے بجلی کی بندش پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا، تاہم کے الیکٹرک کا مؤقف ہے کہ واجبات کی وصولی کے بغیر سسٹم کو مستحکم رکھنا ممکن نہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے الیکٹرک میں بجلی بجلی کی کی گئی

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق