data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی( اسٹاف رپورٹر) بی ایچ وائی اسپتال کی جانب سے پنک ربن مہم کے تحت خواتین کے لیے چھاتی کے سرطان بریسٹ کینسرٞ سے آگاہی کیلئے سیمینار منعقد کیا گیا جس میں بی ایچ وائی اسپتال کے کنسلٹنٹس سمیت مختلف اسپتالوں کے ماہرین نے شرکت کی۔

پروگرام کی خاص بات یہ تھی کہ اس ایونٹ کاانتظامی عملہ صرف خواتین پر ہی مشتمل تھا ۔ اسی خصوصیت کی بناپرنہ صرف اہل علاقہ بلکہ دور دراز کے مختلف علاقوں سے خواتین نے شرکت کی کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر زہ گل، کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر مالا شاہانی،کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ثمینہ قاضی،کنسلٹنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر تنزہ عرفان،کنسلٹنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر کائنات ظفر،کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن ڈاکٹر صدف زہرہ،کنسلٹنٹ سونولوجسٹ ڈاکٹر نجمہ میمن،فیملی فزیشن ڈاکٹر فوزیہ مسود شامل تھیں۔

ماہرین نے کہا کہ چھاتی کا سرطان دنیا بھر میں خواتین میں سب سے زیادہ پایا جانے والا مرض ہے، اور افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں اس کی شرح بھارت سمیت دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، پاکستان میں عام طور پر چالیس سے پچاس سال کی خواتین میں یہ مرض سامنے آتا ہے، جب کہ بیس سے تیس سال کی عمر کی خواتین میں اس کی شرح تقریباً سات فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھاتی کے سرطان کے چار مراحل ہوتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں چھوٹی سی گٹھلی بنتی ہے، دوسرے میں وہ بڑھنے لگتی ہے، تیسرے مرحلے میں بغل کے غدود متاثر ہوتے ہیں، جب کہ چوتھے مرحلے میں بیماری جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جاتی ہے۔پاکستان میں بدقسمتی سے صرف دس فیصد خواتین میں یہ مرض ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوتا ہے، جب کہ زیادہ تر خواتین تاخیر سے علاج کے لیے آتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ قریبی رشتہ داروں میں شادی اس مرض کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے، جب کہ پہلا بچہ تیس سال سے پہلے پیدا کرنے والی خواتین میں خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ماہرین نے کہا کہ میموگرام کے ذریعے چھاتی کے سرطان کی تشخیص مرض ہونے سے دو سال پہلے تک ممکن ہے، اس لیے خواتین کو چاہیے کہ ہر دو سال بعد میموگرام ضرور کروائیں۔

انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ ماہواری ختم ہونے کے بعد اپنی چھاتی کا خود معائنہ سیلف ایکزیمینیشنٞ ضرور کریں، اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔انہوں نے خواتین کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ خوف نہیں، ہمت کریں، کیونکہ سرطان کا علاج ممکن ہے۔ اداسی اور ذہنی دبا¶ بیماری کو بڑھا سکتے ہیں، اس لیے مثبت رویہ اختیار کریں۔

پروگرام میں شریک خواتین نے ماہرین سے سوالات کیے اور عملی طور پر چھاتی کی جانچ کے درست طریقے سیکھے۔بی ایچ وائی اسپتال انتظامیہ کی جانب سے پروگرام میں شریک خواتین کیلئے مفت میموگرام اورالٹراسائونڈ پرخصوصی ڈسکائونٹ کے علاوہ ماہرین کے مفت چیک اپ کی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی جس سے خواتین کی بڑی تعداد نے استفادہ کیا اور انتظامیہ کے اس اقدام کو بھرپور سراہا۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چھاتی کے سرطان خواتین میں مرحلے میں کہا کہ

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے