کراچی؛ کورنگی میں بلند عمارت سے نومولود بچی کو پھینکا گیا، لاش گھر کی بالکونی سے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
کراچی:
کورنگی کرسچن ٹاؤن میں گھر کی بالکونی میں نومولود بچی کی لاش ملی ہے گھر والوں کا کہنا ہے کہ جس وقت بچی ملی اس میں سانسیں موجود تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ بچی کی ولادت کچھ دیر پہلے ہی ہوئی ہے، انھوں نے بتایا کہ لگتا ہے کہ عقب میں کسی بلند گھر سے بچی کو ان کے گھرکے قریب کچرا کنڈی میں پھینکے کی کوشش کی لیکن بچی کچرا کنڈی میں گرنے کے بجائے ان کے گھر کی بالکونی میں جا گری۔
تفصیلات کے مطابق پیرکی صبح زمان ٹاؤن تھانے کے علاقے کورنگی کرسچن ٹاؤں گلی نمبر ایک میں واقع گھرکی بالکونی سے نومولود بچی کی لاش ملی ہے اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اورپولیس نے بچی کی لاش قانونی کارروائی کے لیے ایدھی ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔
جس گھرکی بالکونی سے بچی ملی اس کے گھرمکین کرسٹوفرجاوید نے ایکسپریس کو بتایاکہ صبح پونے سات بجے کاواقعہ ہے والدہ ملازمت پرجا رہی تھیں گھر کی بالکونی میں بچی پڑی ہوئی تھی والد باہر سے گھر میں آئے اور انھوں نے شاپنگ بیگ ہٹایا تو بچی کا سردکھنے لگا جس پرفوری علاقے کوکونسلراورمحلے داروں کوبلایا گیا۔
اس کے بعد ریسکیو ٹیم اور 15 پولیس کو کال کرکے واقعے کی اطلاع دی گئی پولیس اورریسکیوٹیم بچی کو لیکرچلی گئی، کرسٹوفرجاوید کا دعویٰ ہے کہ جب بچی کو شاپنگ بیگ سے نکالا گیا تواس میں سانسیں موجود تھیں اورایسا محسوس ہورہا تھا کہ بچی کی ولادت کچھ دیر پلے ہی ہوئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ لگتا ایسا ہے کہ کسی نے بچی کوان کے گھرکے قریب کچرا کنڈی میں پھینکے کی کوشش کی لیکن بچی کچرا کنڈی میں گرنے کے بجائے ان کے گھر کی بالکونی میں جا گری،ان کا کہنا تھاکہ لگتا یہ ہی ہے کہ بچی کوان کے گھر کے عقب میں واقعے کسی بلند گھرسے پھینکا گیا ہے اوربچی اوپرسے ہی نیچے گری ہے ان کاکہنا تھا کہ جس نے بھی بچی کے ساتھ ایسی حرکت کی اسے سخت سزا دینی چاہیے۔
رابطہ کرنے پرایس ایچ اوزمان ٹاؤں نفیس الرحمان نے بتایاکہ مددگار 15 پولیس واقعے کی اطلاع ملنے پرموقع پرپہنچی تو پولیس کو بچی مردہ حالت میں ملی انھوں نے بتایاکہ شبہ ہے کہ بچی کو پھینکا گیا ہے لیکن یہ بات 100 فیصد درست ہے یا نہیں اس حوالے سے پولیس تحقیقات کررہی ہے۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ پولیس نے 2 مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے جبکہ جاں بحق نومولود بچی کا جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے تاکہ وجہ موت کا تعین ہوسکے۔
ایس ایچ اونے بتایا کہ پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد پولیس واقعے کا مقدمہ درج کرکے واقعے کی مختلف پہلوؤں پر باریک بینی سے تفتیش کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کچرا کنڈی میں نومولود بچی نے بتایا کہ ان کے گھر انھوں نے بچی کی بچی کو کہ بچی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔