غزہ میں جنگ بندی متاثر نہیں ہوئی، اسرائیلی کارروائیاں زیرِ غور ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاکہنا ہے کہ اسرائیل کے تازہ فضائی حملوں کے باوجود غزہ میں جنگ بندی بدستور برقرار ہے، واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے کہ حماس کے ساتھ امن قائم رہے اور صورتحال دوبارہ کشیدگی کا شکار نہ ہو۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حماس کے ساتھ صورتِ حال پُرامن رہے کیونکہ کسی بھی نئے تصادم سے خطے میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں فضائی کارروائیاں کیں، جنہیں حماس کے مبینہ حملوں کا جواب قرار دیا جا رہا ہے، اس نے جنگ بندی کے عمل درآمد کی تجدید شروع کر دی ہے، دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ممکن ہے حماس کی اعلیٰ قیادت نے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی میں براہ راست کردار ادا نہ کیا ہو۔
امریکی صدر سے صحافی نے سوال کیا کہ کیا اسرائیلی حملے جائز تھے؟ ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاملہ زیرِ غور ہے اور اس پر مناسب اور متوازن انداز میں فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہےکہ امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کُشنر اسرائیل روانہ ہو چکے ہیں تاکہ جنگ بندی معاہدے کے تسلسل اور فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا کو بحال کیا جا سکے۔
دوسری جانب حماس نے رفح میں کسی بھی حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل جھوٹے بہانوں کے ذریعے جنگ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا ہے، تازہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 23 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ حماس کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک اسرائیل کی 80 سے زائد خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں جن میں درجنوں فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امدادی سامان کے داخلے میں رکاوٹیں بھی بدستور جاری ہیں اور فی الحال صرف کریم شالوم کراسنگ کے ذریعے محدود امداد کی اجازت دی جا رہی ہے، جس کے باعث قحط زدہ علاقوں میں صورتحال تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ حماس کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔