اسرائیلی فوج نے غزہ میں خون کی ہولی کھیلنے کے بعد جنگ بندی معاہدہ بحال کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
اسرائیلی فوج نے غزہ میں خون کی ہولی کھیلنے کے بعد جنگ بندی معاہدہ بحال کردیا WhatsAppFacebookTwitter 0 20 October, 2025 سب نیوز
جارح اسرائیل نے سیز فائر معاہدے کی سنگین خلاف ورزیوں کے دوران درجنوں فلسطینیوں کو شہید کرنےکے بعد جنگ بندی کے نفاذ پر پھر سے عمل درآمد شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
اسرائیلی فوج نے غزہ میں سرنگوں سمیت حماس کے درجنوں اہداف پر 120 راکٹ حملے کیے، اسرائیلی فوج نے حماس کا بہانہ بنا کر غزہ میں شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا۔
قابض فوج کی جانب سے خان یونس کے شمال مغربی علاقے میں بے گھر افراد کے خیموں اور غزہ کے نصیرات کیمپ پر بھی بمباری کی گئی۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کے غزہ پر فضائی حملوں میں کل صبح سے اب تک 45 فلسطینیوں نے جام شہادت نوش کیا تاہم 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ میں 98 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ حملے حماس کی جانب سے ان کے اہلکاروں پر حملوں کے جواب میں کیے گئے تاہم حماس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا کہ اسرائیل جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔
غزہ میں 45 فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد اسرائیلی فوج نے تازہ بیان جاری کیا کہ حماس کے اہداف پر فضائی حملوں کے بعد غزہ میں جنگ بندی دوبارہ نافذ کر دی گئی ہے۔
سیز فائر معاہدے پر عمل درآمد کرانےکیلئے حماس وفد قاہرہ پہنچ گیا
دوسری جانب حماس رہنما خلیل الحیہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی وفد قاہرہ پہنچ گیا جہاں وہ رواں ماہ شرم الشیخ میں طے پانے والے سیز فائر معاہدے پر عمل درآمد کے معاملات پر مصری حکام کے ساتھ بات چیت کرے گا۔
امریکی حکام کا دورہ اسرائیل ، غزہ میں جنگ بندی فریم ورک پر بات ہوگی
ادھر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کُشنر آج اسرائیل پہنچیں گے جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو اسرائیل پہنچیں گے۔
رپورٹس کے مطابق تینوں امریکی حکام اپنے دورے کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کے امریکی فریم ورک کو آگے بڑھایا جا سکے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد: بری امام میں آپریشن، 17 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار سیز فائر میں درجنوں فلسطینیوں کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل کا جنگ بندی بحالی کا نیا ڈرامہ ایران میں ایک اور اسرائیلی جاسوس کو پھانسی دے دی گئی جنگ بندی معاہدہ خطرے میں، اسرائیلی فوج کے غزہ پر حملے جاری اسرائیل کا رفح بارڈر بند کرنے کا اعلان، حماس نے مزید 2لاشیں واپس کردیں پاکستان مخالف پروپیگنڈا نہ کرنے پر افغان چینل شمشاد ٹی وی کی نشریات معطل غزہ جنگ بندی خطرے میں؟ امریکا کا حماس پر حملے کی تیاری کا الزام، مزاحمتی تنظیم نے دوٹوک تردید کردیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج نے کے بعد
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔