data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران:۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی پیشکش کو مسترد کردیا۔ غیر ملکی خبررساں ا دارے کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے ٹرمپ کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ امریکا نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان 5مرحلوں پر مشتمل بالواسطہ جوہری مذاکرات جون میں 12 روزہ جنگ کے بعد ختم ہوگئے تھے۔ اس جنگ کے دوران امریکا اور اسرائیل نے ایران کی متعدد جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ٹرمپ خود کو معاہدہ کرنے والا شخص کہتے ہیں لیکن اگر کوئی معاہدہ دباﺅ، دھمکی اور پہلے سے طے شدہ نتائج کے ساتھ ہو تو وہ معاہدہ نہیں بلکہ مسلط کردہ جبر ہے۔

گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کے لیے یہ اچھی بات ہوگی اگر وہ ایران کے ساتھ ایک امن معاہدے پر مذاکرات کرسکے۔

ٹرمپ کی جانب سے ایرانی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کے بیان پر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی صدر فخر سے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا۔ بہت خوب، خواب دیکھتے رہو۔انہوں نے مزید کہا کہ کیا یہ امریکا کا اختیار ہے کہ وہ طے کرے کہ ایران کے پاس جوہری تنصیبات ہوں یا نہ ہوں؟۔

ویب ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: خامنہ ای نے آیت اللہ

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل