ایران نے جدید بیلسٹک میزائل ’’عماد‘‘ اور ’’قدر‘‘ کی اپ گریڈ ورژن کے ساتھ رونمائی کردی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہوئے دو جدید اور اپ گریڈ شدہ بیلسٹک میزائلوں — ’عماد‘ اور ’قدر‘ — کی باضابطہ رونمائی کر دی ہے۔ یہ میزائل ایرانی انقلابی گارڈ (IRGC) کی ایرو اسپیس فورس کی جانب سے تیار کیے گئے ہیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’قدر‘ میزائل کو خاص طور پر الیکٹرانک وارفیئر سے نمٹنے کے لیے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ اس میں ایسے سسٹمز شامل کیے گئے ہیں جو دشمن کے ریڈارز، کمیونیکیشن سسٹمز اور دیگر الیکٹرانک آلات کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب، ’عماد‘ بیلسٹک میزائل کو بھی تکنیکی طور پر جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ مکمل طور پر فعال اور فائرنگ کے لیے تیار ہے۔ دونوں میزائل اب باقاعدہ لانچرز پر نصب کر دیے گئے ہیں اور فوری کارروائی کے لیے تیار حالت میں رکھے گئے ہیں۔
ایرانی انقلابی گارڈ کی ایرو اسپیس فورس کے ایک اعلیٰ کمانڈر کا کہنا تھاکہ ہماری میزائل طاقت ہر گھنٹے کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ یہ نئے میزائل ہماری دفاعی تیاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ان میزائلوں کی اپ گریڈیشن نہ صرف ایران کی تکنیکی خود کفالت کا ثبوت ہے، بلکہ خطے میں اس کی اسٹریٹجک پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کی سمت بھی ایک اہم قدم ہے۔
یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے کئی علاقوں میں اچانک فضائی حملے کیے تھے، جن کا نشانہ فوجی اور جوہری تنصیبات تھیں۔ ان حملوں میں سینیئر ایرانی کمانڈرز، سائنسدان اور شہری جاں بحق ہوئے۔ ایران نے اس حملے کا بھرپور جواب دیا، جس کے بعد 24 جون کو ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔
ایران کی جانب سے میزائلوں کی یہ رونمائی ایک واضح پیغام ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر لمحے تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اپ گریڈ گئے ہیں کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔