data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جنوبی کوریا نے ایک نیا طاقتور بیلسٹک میزائل متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے، جسے مونسٹر (monster) میزائل” کا نام دیا جارہا ہے۔

عالمی خبررساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے بڑھتی ہوئی میزائل اور نیوکلیئر صلاحیت کے تناظر میں جنوبی کوریا نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جنوبی کوریا کا موقف ہے کہ اس طرح کا میزائل شمالی کوریا کے ٹھوس ٹھکانوں اور نیوکلیئر رہنمائی مراکز کے خلاف دہشت کا توازن برقرار رکھنے میں معاون ہوگا۔

اس میزائل کا اصل نام Hyunmoo‑5 ہے، اور اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ 8 ٹن وزنی وارہیڈ لے جانے کے قابل ہے۔

اس میزائل کی بڑی مقدار میں پیداوار شروع کر دی گئی ہے اور اس کی آپریشنل تعیناتی اس سال کے آخر تک متوقع ہے۔ اس اقدام سے خطے میں عسکری کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے مابین۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ جنوبی کوریا نیوکلیئر ہتھیار رکھنے والا ملک نہیں ہے، اسے اس طرح کے میزائلوں کے ذریعے روایتی طاقت بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کرنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ اس قسم کے میزائل کی تعیناتی بین الاقوامی معاہدوں، خطے کے امن اور اسلحہ دوڑ کے تناظر میں حساس ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جنوبی کوریا شمالی کوریا

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل