پی آئی اے اور اتحاد ایئرویز کے درمیان کوڈشیئر معاہدہ طے پاگیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے متحدہ عرب امارات کی قومی ایئر لائن اتحاد ایئرویز کے ساتھ کوڈشیئر معاہدے پر دستخط کردیے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، پی آئی اے اور ایئرپورٹ کی نجکاری سے متعلق بریفنگ
ترجمان پی آئی اے کے مطابق اس معاہدے میں نہ صرف مسافر پروازیں بلکہ کارگو سروسز اور فریکوئنٹ فلائر پروگرام کی سہولت بھی شامل ہے۔
یہ معاہدہ 31 اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا اور پی آئی اے کے لیے ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
معاہدے کے تحت پی آئی اے ایسے راستوں پر اتحاد ایئرویز کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے اپنی سہولیات فراہم کرے گا جہاں پی آئی اے کی پروازیں براہ راست نہیں جاتی ہیں۔
اس سے مسافروں کو بہتر اور جامع سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اس تعاون سے پی آئی اے کی آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔
پی آئی اے کی نجکاریدوسری جانب ذرائع نے بتایا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل آئندہ ماہ کے شروع میں آخری مراحل میں داخل ہونے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیے: آئی ایم ایف کا دباؤ، پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل گرانے اور فلک بوس ٹاور تعمیر کرنے پر غور
عارف حبیب لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی، ایئر بلیو اور لکی گروپ وہ 4 دلچسپی رکھنے والے ادارے ہیں جو قومی کیریئر میں حصہ داری کے خواہاں ہیں۔
ان کمپنیوں نے حکومت سے نجکاری کے عمل میں کچھ شرائط نرم کرنے کی درخواست کی ہے تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ پی آئی اے کا برانڈ نام بدلے گا نہیں اور قومی پرچم اپنے طیاروں پر برقرار رہے گا۔
پی آئی اے کی ملکیت پاکستانی شہریوں کے پاس رہے گی اور غیر ملکی افراد یا اداروں کو بولی میں اکثریتی حصہ دار بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس سے پہلے نجکاری کمیشن بورڈ نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے 4 سرمایہ کاروں کو پری کوالیفائی کیا تھا۔
کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے بھی روزویلٹ ہوٹل کی ٹرانزیکشن سٹرکچر کو منظور کیا ہے جو حکومت کے نجکاری ایجنڈے میں ایک اہم پیشرفت ہے۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کو برطانیہ کے لیے آپریٹنگ پرمٹ مل گیا، پروازیں کب شروع ہوں گی؟
وزارتِ نجکاری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی کی صدارت میں نجکاری کمیشن بورڈ کے حالیہ اجلاسوں میں اہم اسٹریٹجک معاملات میں مسلسل پیشرفت ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی آئی اے پی آئی اے اور اتحاد ایئرویز کا معاہدہ قومی ایئرلائن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے قومی ایئرلائن اتحاد ایئرویز پی آئی اے کی پی ا ئی اے کی نجکاری ئی اے کی کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔