جناح ٹاؤن یوسی 1 بلدیاتی ترقیاتی منصوبے مکمل کرلیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251021-02-19
کراچی(اسٹاف رپورٹر)جناح ٹاؤن کی یوسی 1 چاندی چوک اور اطراف کی گلیوں میں بلدیاتی ترقیاتی منصوبے مکمل کرلیے گئے ہیں۔ چیئرمین جناح ٹاؤن رضوان عبد السمیع کی قیادت میں تقریباً 65 سے 70 ہزار اسکوائر فٹ پر محیط سڑکوں کی تعمیر نو، نئی سیوریج لائنوں کی تنصیب اور اسٹریٹ لائٹس کی بحالی کا کام اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی وائس چیئرمین یوسی رحیم مہاراج، یوسی کونسلرز اور ایکسیئن بی اینڈ آر اعجاز عالم نے کی تاکہ ہر مرحلے پر معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ چیئرمین رضوان عبد السمیع نے منصوبے کے دوران چاندی چوک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا اور موقع پر موجود عملے کو ضروری ہدایات بھی دیں۔ یوسی 1 میں برسوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، ناقص سیوریج اور اسٹریٹ لائٹس کی عدم موجودگی جیسے مسائل عوام کیلیے شدید پریشانی کا باعث بنے ہوئے تھے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد ان دیرینہ مسائل کا مؤثر حل ممکن ہو سکا ہے۔ علاقہ مکینوں نے ترقیاتی کاموں کے معیار اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹاؤن چیئرمین اور بلدیاتی نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔