اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) کراچی ریجنل آفس بھی سربراہ سے محروم، ایک ماہ سے ایڈہاک ازم
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملک میں اعلیٰ تعلیمی نظام کی نگران اہم ترین ادارہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) میں ایڈہاک ازم اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے، جہاں چیئرمین اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کی خالی اسامیوں کے بعد اب کراچی ریجنل آفس بھی ایک ماہ سے سربراہ کے بغیر چل رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایچ ای سی کراچی ریجنل ڈائریکٹر نذیر حسین کا گزشتہ ماہ تبادلہ کرکے انہیں ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورس اسلام آباد تعینات کیا گیا تھا، ان کی جگہ تاحال کسی مستقل افسر کی تعیناتی نہیں کی جا سکی، نتیجتاً پورے سندھ کی اعلیٰ تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی اور جامعات کے انتظامی امور ایک جونیئر افسر کے سپرد کر دیے گئے ہیں جو محدود اختیارات کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ عارضی افسر کو اسلام آباد سے ہر سرکاری فائل کی منظوری حاصل کرنی پڑتی ہے، جس کے باعث معاملات میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے، ایچ ای سی کراچی آفس روزانہ سیکڑوں طلبہ، اساتذہ اور جامعات کے نمائندوں کے لیے خدمات فراہم کرتا ہے، جہاں ڈگریوں کی تصدیق، وظائف، تحقیقی منصوبے اور دیگر دستاویزات سے متعلق کارروائیاں انجام دی جاتی ہیں۔
ایچ ای سی کے اعلیٰ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ نذیر حسین کی جانب سے نئے ریجنل ڈائریکٹر کی تعیناتی کے لیے نوٹ فائل بھی تاحال تیار نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے پورا نظام انتظامی خلاء کا شکار ہے۔
قائم مقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایچ ای سی مظہر سعید نے تصدیق کی کہ کراچی آفس کی سربراہی کا مسئلہ چیئرمین ایچ ای سی کے علم میں ہے، اسامی کے خالی ہونے کا احساس ہے، چیئرمین سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور امکان ہے کہ اسی ہفتے کسی اہل افسر کی تقرری کر دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال کراچی سے شروع ہونے والی تمام فائلوں کی منظوری اسلام آباد ہیڈ آفس سے دی جا رہی ہے، تمام کام بخوبی انجام دیا جارہاہے۔
واضح رہے کہ چیئرمین ایچ ای سی کی نشست بھی مستقل طور پر خالی ہے، اور فی الوقت وفاقی سیکریٹری تعلیم ندیم محبوب قائم مقام چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین ایچ ای سی کی اسامی کے لیے ساڑھے پانچ سو سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، تاہم ان کی اسکروٹنی کا عمل دو ماہ گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا۔ اس کے بعد تلاش کمیٹی کو ان امیدواروں کے انٹرویوز کرنا ہوں گے، جس میں مزید وقت لگنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی میں طویل عرصے سے جاری ایڈہاک کلچر نے اعلیٰ تعلیم کے معیار، پالیسی سازی اور جامعات کے نظم و نسق کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے طلبہ اور اساتذہ دونوں پریشانی کا شکار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ایچ ای سی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔