سندھ بلڈنگ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی بلڈر سے ملی بھگت
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
ماڈل کالونی میں کمزور بنیادوں پر بالائی منزلیں، شہریوں کی زندگیاں داؤ پر
شیٹ نمبر 16پلاٹ 1/3/1میں مخدوش بنیادوں پر بالائی منزلوں کی تعمیر ات
ضلع کورنگی شاہ فیصل ٹاؤن کے علاقے ماڈل کالونی، شیٹ نمبر 16 میں واقع ایک رہائشی مکان 1/3/1 پر کئی سال پہلے تعمیر کیے جانے والے مکان کی مخدوش بنیادوں پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی ملی بھگت سے بالائی منزلوں کی تعمیر کی چھوٹ دے کر علاقہ مکینوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے ، ذرائع کے مطابق ایس بی سی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے لاکھوں روپے وصول کر کے اس غیرقانونی تعمیر کو منظوری دی ہے ۔جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق عمارت کی بنیادیں اتنی کمزور ہیں کہ وہ موجودہ منزلوں کا بوجھ بھی مشکل سے اٹھا رہی ہیں۔ تاہم بلڈر نے ایس بی سی اے افسر کی ملی بھگت سے بغیر کسی تکنیکی جائزے کے دو اضافی منزلیں تعمیر کر دی ہیں۔ماہرینِ تعمیرات کے مطابق یہ عمارت کسی بھی وقت گر سکتی ہے ، جس سے نہ صرف عمارت کے مکینوں بلکہ آس پاس کی دیگر عمارتوں میں رہنے والوں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے ۔علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر تک تحریری شکایات جمع کروائیں، مگر افسر کی ملی بھگت کے باعث کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ایک رہائشی عبدالخالق نے بتایا، ’’ہر روز ڈر کے ساتھ گزارتے ہیں۔ رات کو نیند نہیں آتی۔ اگر یہ عمارت گر گئی تو کتنے بے گناہ مارے جائیں گے ‘‘۔سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اس معاملے میں فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے بدعنوان افسران کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر عمارت کا معائنہ کر وا کر جائزہ لیا جائے اور مجرمانہ غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔یہ واقعہ شہر میں ہونے والی غیرقانونی تعمیرات اور بلڈنگ کنٹرول اداروں میں پائی جانے والی بدعنوانی کی ایک اور کڑی ہے ، جس نے شہریوں کی زندگیوں کو مسلسل خطرے میں ڈال رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ملی بھگت
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔