کوئٹہ:ایف آئی اے کی کارروائی، 36 ملین کی غیر ملکی کرنسی برآمد
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251020-08-12
کوئٹہ (صباح نیوز)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں غیر قانونی کرنسی میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ترجمان ایف آئی اے کے مطابق وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے)نے کوئٹہ میں کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، گرفتار ملزمان سے 36 ملین ایرانی ریال اور 5 ہزار افغان کرنسی برآمد کرلی گئی جبکہ ملزمان کے قبضے سے مختلف بینکوں کی چیک بکس اور دیگر اشیا بھی برآمد کی گئی ہیں۔ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کا کاروبار کر رہے تھے جب کہ ملزمان حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ہیں۔ترجمان نے کہا کہ ملزمان برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہ کر سکے، ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی جبکہ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔