سرگودھا میں ’پاکستانی وائٹ ہاؤس‘ کی تعمیر، دیکھنے والے دنگ رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
پنجاب کے شہر سرگودھا میں امریکا کے مشہور وائٹ ہاؤس سے مشابہت رکھنے والی ایک شاندار محل نما عمارت زیرِ تعمیر ہے، جو ہر کسی کی توجہ کا خاص مرکز بنی ہوئی ہے۔
فیصل آباد روڈ پر ایک ایکڑ رقبے پر تعمیر کی جانے والی یہ تین منزلہ رہائش گاہ اپنی طرزِ تعمیر اور دلکش ڈیزائن کے باعث دیکھنے والوں کو حیران کر رہی ہے، اس عمارت کا اندازِ تعمیر جدید فنِ تعمیر کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس کی ساخت امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ ’وائٹ ہاؤس‘ سے خاصی مماثلت رکھتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ منصوبہ گزشتہ چار برسوں سے جاری ہے، جس میں کشادہ کمرے، میٹنگ ہال، لفٹ اور گنبد نما چھت شامل ہیں جو اس کی شان و شوکت میں اضافہ کرتے ہیں، منصوبے کی تکمیل میں مزید ایک سال کا عرصہ درکار ہوگا۔
عمارت کے حسن میں اضافے کے لیے نایاب پودے اور آرائشی سامان ناصرف پاکستان کے مختلف شہروں بلکہ بیرونِ ملک سے بھی منگوایا جا رہا ہے تاکہ یہ رہائش گاہ اپنی انفرادیت اور خوبصورتی کے باعث نمایاں نظر آئے۔
اس زیرِ تعمیر محل نے عوام میں خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے، شہری ناصرف اس کے ڈیزائن کی تعریف کر رہے ہیں بلکہ انجینئرز کی مہارت اور لگن کو بھی سراہا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس امریکا کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر ہے، جو واشنگٹن ڈی سی کے 1600 پنسلوانیا ایونیو پر واقع ہے، یہ عمارت 1800 سے اب تک ہر امریکی صدر کی رہائش گاہ رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رہائش گاہ وائٹ ہاؤس
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔