Jasarat News:
2026-07-24@04:32:30 GMT

شہباز شریف، ٹرمپ، عاصم منیر: تعریفیں ہی تعریفیں

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251021-03-8

 

احمد حسن

بچپن سے ایک لفظ پڑھتے اور سنتے آرہے ہیں ’’قحط الرجال‘‘ یعنی اعلیٰ انسانی شخصیات کی کمی اور معمولی لوگوں کا اعلیٰ مناصب پر فائز ہو جانا، اب احساس ہوتا ہے کہ واقعی ہم قحط الرجال کے دور میں جی رہے ہیں، دنیا کے سب سے ترقی یافتہ اور جمہوری ملک امریکا کے سب سے بڑے منصب پر فائز شخص ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک اے آئی ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ طیارہ اُڑاتے ہوئے احتجاجی مظاہرین پر کچرا پھینکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، 21 سیکنڈز کی وائرل ویڈیو میں ٹرمپ نے بادشاہوں جیسا تاج بھی پہنا ہوا ہے، اس ویڈیو سے ثابت ہوتا ہے کہ ٹرمپ امریکا کے صدر ہونے کے باوجود ذہنی سطح کے اعتبار سے شمالی کوریا کے سفاک آمر کم جونگ سے زیادہ بلند نہیں ہیں، یاد رہے کچھ عرصے قبل اسی ڈکٹیٹر کے حکم پر شمالی کوریا سے کچرے سے بھرے ہوئے بڑے سائز کے غبارے جنوبی کوریا کی جانب چھوڑے گئے تھے اور یہ بیہودہ، بچکانہ عمل بار بار دہرایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف امریکا بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے صرف ایک روز امریکا کے ڈھائی ہزار سے زیادہ مقامات پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور دھرنے دیے گئے شرکا نے ٹرمپ کے خلاف نو کنگ کے نعرے بلند کیے، دوسرے روز 50 ریاستوں میں ’’نو کنگز‘‘ کے عنوان سے مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ٹرمپ حکومت جارحانہ اور آمرانہ ہو چکی ہے، امریکی عوام خاص طور پر امیگریشن تعلیم اور سیکورٹی سے متعلق صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر احتجاج کر رہے ہیں، مظاہرین نے الزام لگایا ہے کہ تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں اور فوجی تعیناتیاں احتجاج کو ہوا دے رہی ہیں، صدر ٹرمپ نے احتجاج پر کان دھرنے اور مسائل حل کرنے کے بجائے تیسری دنیا کے حکمرانوں کی طرح مظاہروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں امریکا مخالف قرار دے دیا ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے جب پہلی مرتبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا اس وقت بھی پاکستان سمیت دنیا بھر کے سلیم الطبع لوگوں کو حیرت ہوئی تھی کہ فلسطین میں تاریخ کے بدترین قتل عام میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے شریک مجرم کے لیے امن انعام کی سفارش کرنا شیطان کو پارسا کا لقب دینے کے مترادف ہے اس پر ملک کے طول و عرض سے اس نامزدگی کو واپس لینے کے مطالبے کیے گئے تھے لیکن قربان جائیے ہمارے وزیراعظم شہباز شریف کے انہوں نے نوبل امن انعام کا اعلان ہونے کے باوجود ایک بار پھر عالمی فورم پر ببانگ دہل کہا کہ وہ اب بھی صدر ٹرمپ ہی کو اس انعام کا مستحق سمجھتے ہیں، اس موقع پر انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مزید خوبیاں بھی گنوائیں اور انہیں دعاؤں سے نوازا، وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مین آف پیس اور امن کا حقیقی علمبردار قرار دیا انہوں نے بتایا کہ امریکی صدر کی بدولت جنوبی ایشیا میں امن قائم ہوا صدر ٹرمپ نے دنیا میں امن کے لیے دن رات کام کیا ان کی خدمات قابل ستائش ہیں، یہ باتیں سن کر پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھک گیا، بڑے بڑے سنجیدہ اور غیر جانبدار صحافی، دانشور، سیاست دان بھی شہباز شریف کی اس تقریر کو چاپلوسی اور خوشامد کہے بغیر نہ رہ سکے، یہ وہ موقع تھا کہ شریف فیملی کے مصاحبین خاص وفاقی وزیر اطلاعت و نشریات عطا اللہ تارڑ، پنجاب کی وزیر اطلاعات اور نشریات عظمیٰ بخاری نے بھی ہاتھ کھڑے کرلیے، وزیراعظم کی مدافعت نہیں کی اور خاموشی ہی میں عافیت سمجھی۔ شرم الشیخ کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ٹرمپ کی تعریف و توصیف کی جبکہ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی تعریف کی اور کہا کہ وہ میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل ہیں وہ یہاں موجود نہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جہانیاں میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خوب تعریف کی اور کہا کہ ان کی کار کردگی بہترین ہے، مریم نواز پورے پنجاب کی خدمت کر رہی ہیں، ٹرانسپورٹ کا جال بچھایا جا رہا ہے، صحت تعلیم اور مواصلات کے شعبوں میں بھی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں جو قابل تعریف ہیں، شہباز شریف مریم نواز شریف کی تعریف کر رہے ہیں۔ مریم نواز شریف مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف کی تعریفیں کرتی ہیں اور نواز شریف وزیراعظم شہباز شریف پر تعریف کے ڈونگرے برساتے رہتے ہیں، شریف فیملی نہ ہوئی ہاکی کے میدان میں کلیم اللہ اور سمیع اللہ کی جوڑی ہو گئی مرحوم عمر شریف ہاکی میچ کی کمنٹری کی اسٹیج پر نقل کرتے ہوئے کہتے تھے بال کلیم اللہ کے پاس ہے، انہوں نے پاس دیا، سمیع اللہ گیند کو لے کر آگے بڑھے، انہوں نے گیند کلیم اللہ کی جانب اچھالی اور کریم اللہ نے گول کر دیا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر بتایا کہ ان کی حکومت نے کامیابیوں کی تاریخ رقم کی ہے، معیشت درست سمت میں ہے، واضح رہے کہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ملیں گے، دنیا میں کسی کو خوش رہنا سیکھنا ہو تو پاکستانی حکمرانوں سے سیکھے وہ اس بات کی بھی خوشیاں مناتے ہیں کہ ہم اتنا قرضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اسے اپنی عظیم کامیابی قرار دیتے ہیں حالانکہ ملکی معاشی حالت اتنی خراب ہے کہ پرانے قرضوں کی قسط ادا کرنے کے لیے پاکستان کو نئے قرضے لینے پڑ رہے ہیں آئندہ دو ماہ میں ملک کو قرضوں کی بھاری قسطیں ادا کرنی ہیں وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر 4 اعشاریہ 57 فی صد ہو گئی ہے، ٹماٹر، پیاز، آٹا، لہسن آلو، بناسپتی گھی، جلانے کی لکڑی، ایل پی جی وغیرہ کے نرخ بڑھ گئے ہیں ایک اور سرکاری رپورٹ کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 71 برآمدی شعبوں میں سے 30 شعبوں کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے باعث برآمدات کی مجموعی نمو گھٹ گئی اور تجارتی خسارہ بڑھ گیا ہے، زیورات قالین، فرنیچر، کیمیکلز، فارماسیوٹیکلز، پلاسٹک، چاول، سبزی، تمباکو بیجوں کے تیل، کاٹن، کپڑے خام پٹرول، ٹرانسپورٹ الات اور دستکاری سمیت متعدد صنعتی شعبوں کی ایکسپورٹ میں ریکارڈ کمی ہوئی ہے۔

 

احمد حسن.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ مریم نواز نواز شریف انہوں نے کی تعریف رہے ہیں ٹرمپ کی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری