WE News:
2026-07-24@04:14:16 GMT

پی آئی اے کی نجکاری میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

پی آئی اے کی نجکاری میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟

قومی ایئرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری ایک مرتبہ پھر بعض تکنیکی و انتظامی مسائل کی بنا پر تاخیر کا شکار نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے لیے پروازیں 25 اکتوبر سے دوبارہ شروع کی جائیں گی، پی آئی اے کا اعلان

نجکاری کے عمل میں شامل مختلف فریقین کے مابین بعض امور پر ڈیڈلاک ہونے کے باعث نجکاری کی بولی کی تاریخ 30 اکتوبر سے بڑھا کر اب 17 نومبر کر دی گئی ہے۔

اس سے پہلے بھی گزشتہ سال نجکاری کے لیے بڈنگ کا انعقاد بھی ہوا تاہم صرف ایک کمپنی بلیو ورلڈ سٹیز نے اس میں حصہ لیا تاہم 85 ارب روپے کی بیس پرائیس کے مقابلے میں 10 ارب روپے کی بولی دی جس وجہ سے نیلامی کا عمل مکمل نہ ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری میں اب تک 4 بڑی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے جن میں عارف حبیب لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر کمپنی، ایئر بلیو اور لکی گروپ شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں پہلے ہی پری کوالیفائی کر چکی ہیں تاہم انہوں نے حکومت سے بعض شرائط میں نرمی کی درخواست بھی کی ہے۔

ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری میں اہم رکاوٹ ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق سے متعلق ہے۔ نجکاری کے بعد ملازمین کی پنشن اور میڈیکل سہولیات کا مستقبل غیر واضح ہونے کی وجہ سے ہولڈنگ کمپنی اور ملازمین کی تنظیموں کے درمیان اختلافات جنم لے چکے ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں انشورنس کمپنی کے ذریعے میڈیکل کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تاہم ملازمین نے اس حوالے سے تحریری پیشکش مانگی ہے۔

مزید پڑھیے: مقبوضہ کشمیر: پی آئی اے کے لوگو والے غبارے نے بھارتی حکام کی دوڑیں لگوا دیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملازمین کی تنظیمیں اس بات پر بضد ہیں کہ ان کے میڈیکل اور پنشن جیسے بنیادی حقوق محفوظ رہیں جب کہ ہولڈنگ کمپنی نے اس مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت طلب کی ہے۔

واضح رہے کہ نجکاری کے عمل کے دوران حکومت نے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ پی آئی اے کا قومی تشخص برقرار رہے گا۔ یعنی ایئرلائن کا نام تبدیل نہیں کیا جائے گا اور طیاروں سے قومی پرچم نہیں ہٹایا جائے گا۔

مزید برآں پی آئی اے کی اکثریتی ملکیت صرف پاکستانی شہریوں تک محدود رہے گی اور کسی غیر ملکی فرد یا ادارے کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ تمام عوامل نجکاری کے عمل کو سست کرنے کا باعث بن رہے ہیں تاہم حکومت اور متعلقہ ادارے اس اہم اسٹریٹجک فیصلے کو مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

مزید پڑھیں: برطانوی ہائی کمشنر کا پی آئی اے کے ساتھ یادگار سفر، تجربہ کیسا رہا؟

سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ چند ماہ قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو بتا چکے ہیں کہ ہمارے ریجن کی بڑی ایئر لائن قطر، گلف، اتحاد اور سعودی ایئر لائنز نے پی آئی اے کی خریداری میں اس لیے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا کیونکہ پی آئی اے کے خسارے میں جانے سے ان کمپنیوں کو بہت فائدہ ہوا۔

عثمان باجوہ نے بتایا کہ پی آئی اے کے نقصان میں جانے سے مذکورہ فضائی کمپنیوں کے کاروبار بڑھ گئے ہیں اور اگر پی آئی اے پھر سے ایک کامیاب ایئر لائن بن کر سامنے آتی ہے تو ان کا کاروبار انتہائی متاثر ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایئر انڈیا کی نجکاری کے باعث ان کمپنیوں کا کاروبار 30 فیصد متاثر ہوا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کمپنیوں کا کاروبار اس لیے متاثر ہوتا ہے کیونکہ لوگ ڈائریکٹ فلائٹس پر سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ ان کمپنیوں کی کنیکٹنگ فلائٹس ہوتی ہیں۔

 سیکریٹری نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والی 5 کمپنیوں کی اہلیت کا جائزہ لینے کے بعد 4 کمپنیوں کو پہلے مرحلے میں ہی اہل قرار دے دیا ہے جن کو اب ڈیو ڈیلیجنس کے مرحلے میں پی آئی اے کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے: پی آئی اے کو 200 ارب کا نقصان، ذمہ دار کون؟ خاور مانیکا کا بیٹا کیوں گرفتار ہوا؟

عثمان باجوہ نے بتایا تھا کہ جن 4 کنسورشیم کو پی آئی اے کی خریداری کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے ان میں سے پہلے کنسورشیم میں لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ، کوہاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز لمیٹڈ شامل ہیں، دوسرے کنسورشیم میں عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ، فاطمہ فرٹیلائئزر کمپنی، سٹی اسکولز لمیٹڈ اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ فوجی فرٹیلائزر اور ایئربلیو بطور الگ الگ کمپنیوں کے پی آئی اے کی خریداری کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی آئی اے پی آئی اے کی نجکاری نجکاری کمیشن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ا ئی اے پی ا ئی اے کی نجکاری نجکاری کمیشن پی آئی اے کی خریداری ئی اے کی نجکاری پی ا ئی اے کی ان کمپنیوں نجکاری کے ئی اے کے کے لیے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش