چمن سرحد عارضی طور پر کھول دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
مقامی ذرائع کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی خالی گاڑیوں اور ٹرکوں کو افغانستان سے پاکستان میں داخلے کی اجازت مل گئی تاہم پیدل چلنے والوں کو ابھی تک سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ اسلام ٹائمز۔ قطر کے دارالحکومت دوحا میں پاک افغان امن معاہدے کے بعد سب سے بڑی پیشرفت کے تحت چمن کے مقام پر پاک افغان سرحد کو جزوی طورپر کھول دیا گیا۔مقامی ذرائع کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی خالی گاڑیوں اور ٹرکوں کو افغانستان سے پاکستان میں داخلے کی اجازت مل گئی تاہم پیدل چلنے والوں کو ابھی تک سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ افغان ڈرائیورز کے لیے پاسپورٹ اور ویزا لازمی قرار دیا گیا ہے، مقامی ذرائع کے مطابق گاڑیوں کی بڑی تعداد چمن کے مقام پر پاکستان میں داخل ہو رہی ہے، پاکستان سے افغانستان بھیجے جانے والے مہاجرین کو بھی سرحد پار بھیجا گیا۔ صدر انجمن تاجران چمن محمد صادق نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اجازت عارضی طور پر دی گئی ہے۔ صباح نیوز کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان اسپین بولدک بارڈر کراسنگ دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فی الحال سرحد صرف تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چند حساس معاملات کے باعث عام شہریوں کی پیدل آمدورفت کی اجازت تاحال نہیں دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔