Jasarat News:
2026-07-24@08:52:37 GMT

لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیل کی فوجی مشقیں، جنگ کا خطرہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسرائیل کی فوج نے لبنان کی سرحد کے ساتھ پانچ روزہ فوجی مشق کا آغاز کردیا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اس فوجی مشق کا مقصد “غیرمتوقع حالات” کی تیاری کرنا ہے۔ اس حوالے سے اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ لبنان کے ساتھ جنگ ​​ختم نہیں ہوئی اور نئے سرے سے کشیدگی کا خطرہ باقی ہے۔

یہ مشق ایسے وقت میں ہورہی ہے جب لبنانی سرزمین پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور حزب اللہ نے غیر مسلح کرنے سے انکار کا اعادہ کیا ہے۔ حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنی فوجی صلاحیتوں کو از سر نو تعمیر کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویشے ایدرائی نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ یہ مشق، جو اتوار کی شام شروع ہوئی اور جمعرات تک جاری رہے گی، لبنانی سرحد کے ساتھ، قصبوں، ساحلی علاقوں اور ہوم فرنٹ میں ہو رہی ۔

انہوں نے وضاحت کی کہ فوج کی تربیت اس طرز پر ہوگی تاکہ مختلف اور غیرمتوقع حالات سے نمٹا جاسکے، جس میں علاقے کا دفاع کرنا اور فوری میدانی خطرات کا جواب دینا شامل ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں گی اور مشق میں دشمن کی نقالی، ڈرونز، فضائی اور بحری یونٹس اور سیکورٹی فورسز کی تیز نقل و حرکت شامل ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مشق کی منصوبہ بندی فوج کے 2025 کے تربیتی شیڈول کے تحت پہلے سے کی گئی تھی۔

دریں اثناء اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں مزید دراندازی کی۔ قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، “اسرائیلی فوج کی ایک یونٹ نے راتوں رات ایتارون قصبے میں برقات المحافر کے علاقے کی طرف پیش قدمی کی، اور کسانوں کو ان کی زمین سے دور دھکیلنے کی کوشش میں چار کنکریٹ کے بلاکس پر لکھا تھا جس میں لکھا تھا: ‘داخلہ نہیں، موت کا خطرہ’۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم