وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وفاقی حکومت سے ملی بلٹ پروف گاڑیاں ٹھکرادیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت سے ملی بلٹ پروف گاڑیاں ٹھکرادیں اور واپس کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور وفاقی حکومت کے درمیان پہلا بڑا تنازع سامنے آگیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے وفاق کی جانب سے دی گئی بلٹ پروف گاڑیاں ناکارہ اور زائد المیعاد قرار دے کر انہیں وفاق کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پولیس اورسی ٹی ڈی دہشتگردی کےخلاف فرنٹ لائن کرداراداکررہے ہیں لیکن بدقسمتی سے وزیرداخلہ نے زائدالمعیادبلٹ پروف گاڑیاں کےپی پولیس کودیں،ناکارہ گاڑیاں دینے سے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں خطرے میں ڈالی جا رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے میں بند کمروں میں بیٹھ کر بننے والے فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے، اور اس حوالے سے اداروں اور بیوروکریسی کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں چادر اور چاردیواری کی پامالی نہیں ہونے دی جائے گی، اور کسی سیاسی کارکن کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار نہیں کیا جائے گا اور کسی طالبعلم کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد پر مقدمہ درج نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے قبائلی اضلاع کے لیے میڈیکل کالج اور یونیورسٹی کے قیام کی ہدایت کی ہے، جبکہ احساس پروگرام کے تحت جاری منصوبے برقرار رہیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ نیو بلین ٹری سونامی منصوبے کا جلد افتتاح کیا جائے گا اور عوام کو اس بار “حقیقی معنوں میں تبدیلی” نظر آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہوگی، تمام تبادلے اور تقرریاں میرٹ پر کی جائیں گی، میری نامزدگی سے حلف برداری تک من گھڑت الزامات لگائے گئے، اب مجھے ناکام بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بانی سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو وہ عوام کے پاس جائیں گے اور اپنا مؤقف جمعہ کو چارسدہ کے عوام کے سامنے رکھیں گے۔ دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردوں سے لڑنا ہی نہیں چاہتی، وفاق نے عالمی معیار کی بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کیں، مگر صوبائی حکومت نے پولیس جوانوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز