لاہور+ اوکاڑہ+ حجرہ شاہ مقیم (نیوز رپورٹر +نوائے وقت رپورٹ+ نمائندگان) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سیلاب متاثرین بحالی پروگرام کی افتتاحی تقریب میں سیلاب متاثرین کے لئے 100ارب روپے کے تاریخی امدادی پیکج‘ امدادی رقوم کے حصول کیلئے آمدورفت کی ٹرانسپورٹ  بھی متاثرین کو فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سیلاب متاثرین بحالی پروگرام کی تقریب سے  دیپالپور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کی امداد شروع ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ تاریخ کے بد ترین سیلاب نے پنجاب کو گھیرا۔ گھر اور مال و مویشی بھی بہہ گئے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ  پنجاب کی پوری حکومت سیلاب متاثرین کے ساتھ رہی، تین ہفتے تک میں خود بھی گھر نہیں بیٹھی اور نہ ہی دفتر گئی۔ پنجاب پاکستان کا پہلاصوبہ ہے جس نے انسان ہی بلکہ لاکھوں مویشیوں کی بھی جانیں بچائیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ریسکیو ریلیف آپریشن پنجاب نے اپنے وسائل سے کیا۔ دنیا کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔ عوام کے پیسے کو عوام کے قدموں میں ہی ڈھیر کریں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے پر حوصلہ اور شاباش دی۔ عوام کے ساتھ کھڑے ہونا اور انتھک محنت محمد نواز شریف اور شہباز شریف سے سیکھی۔  جب تک وزیر اعلیٰ ہوں عوام کو کوئی میلی آنکھ سے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ کرپشن کے دروازے بند کر دیئے۔ مختص 100ارب روپے میں سیلاب متاثرین کے سوا کسی کو نہیں ملے گا۔ سیلاب متاثرین میں جو رہ جائے گا، اس کی شکایت کے لئے الگ نظام  وضع کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 15 اضلاع میں معاوضے دیئے جارہے ہیں۔ سیلاب متاثرین کی سہولت کے لئے 75مقامات پر سیلاب بحالی امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ71ہزار سے زائد سیلاب متاثرین کے بینک اکاؤنٹ کھل چکے ہیں۔ آج پاکستان میں پنجاب کی ترقی کی مثالیں دی جارہی ہیں۔ جو ترقی اور وسائل بڑے شہروں کو میسر ہیں، وہی چھوٹے شہروں کے لئے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز سب کی سی ایم اور سب کی بیٹی ہے۔ پنجاب کا ہر خاندان میرے لیے اپنے خاندان کی طرح اہم ہے۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے جو حفاظت بھی کرتی اور خیال بھی رکھتی ہے۔ جب تک کیمپ میں آخری بندے کو امدادی رقم نہیں ملے گی کیمپ بند نہیں ہوگا۔ دیپالپور کے سیلاب متاثرہ افراد کو 50ہزار کیش اور اے ٹی ایم کارڈ دیئے گئے۔ تحصیل دیپالپور میں 500 سیلاب متاثرین کو ایک ہی دن میں 9 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔  وزیراعلی مریم نواز شریف نے سیلاب متاثرین کو فرنٹ پر بٹھانے کا حکم دیا اور انہیں کے درمیان بیٹھ گئیں۔ وزیراعلی مریم نواز شریف سیلاب متاثرین میں گھل مل گئیں اور متاثرین کو جلد از جلد گھر کی تعمیر کی یقین دہانی کرائی۔ سیلاب متاثرہ خواتین نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا پیسے ملنے پرشکریہ بھی ادا کیا۔  وزیراعلی مریم نواز شریف بزرگ خاتون نور بیگم اور زینب بی بی کا ہاتھ پکڑ کر خود کاؤنٹر پر لے گئیں، پراسس مکمل کرایا، بائیو میٹرک کے بعد 50 ہزارروپے اور اے ٹی ایم کارڈ دیا۔ پنجاب بنک کے فلڈ ڈسپرسمنٹ کیمپ سائٹ میں سیلاب متاثرین کی آؤ بھگت، لنچ، کولڈ ڈرنک، سنکیس اور جوسز سے تواضع کی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو اوکاڑہ میں سیلاب متاثرین کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں 73 فی صد سروے مکمل کر لیا گیا اور چند ہفتے میں تکمیل ہوجائے گی۔ پنجاب بنک کی اے ٹی ایم مشین سے کارڈ کے ذریعے 24 گھنٹے میں لاکھ لاکھ کرکے تین لاکھ روپے نکالے جا سکتے ہیں۔ دریں اثناء  وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دیوالی کے تہوار پر  خصوصی پیغام میں کہا کہ دیوالی کا دیپ محبت کی جوت جگاتا ہے۔ اقلیتوں کے لئے’’سپیشل مینارٹی کارڈ‘‘ کا اجراء  کردیا۔ ’’مینارٹی ورچوئل پولیس سٹیشن‘‘ بھی قائم کررہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شریف نے سیلاب متاثرین میں سیلاب متاثرین مریم نواز شریف نے سیلاب متاثرین کے سیلاب متاثرین کی متاثرین کو کہا کہ کے لئے

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم