Express News:
2026-06-03@02:28:35 GMT

پاک افغان جنگ بندی؛ روس کا اہم بیان سامنے آگیا

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

روس نے ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی کشیدگی اور پھر جنگ بندی پر پہلی بار باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر تناؤ کے خاتمے کے لیے جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

روسی ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کا عزم کرنا خوش آئند ہے جو دونوں ممالک کے درمیان قیام امن کی بنیاد رکھتا ہے۔

انھوں نے پاک افغان جنگ بندی کو علاقائی سلامتی کا ضامن قرار دیتے ہوئے سیزفائر میں اہم کردار ادا کرنے پر قطر اور ترکیہ کے ثالثی کے کردار کو بھی سراہا۔

روسی ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تعاون کو مزید وسعت دیں، بالخصوص دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اُٹھائے جائیں۔

جنگ بندی کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ میں حوصلہ افزا مذاکرات بھی ہوئے تھے جس کا اگلا دورِ 25 اکتوبر کو استنبول میں منعقد ہوگا۔

یاد رہے کہ11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغانستان سے طالبان حکومت کی سیکیورٹی فورسز نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی۔

جس پر پاک فضائیہ نے منہ توڑ جواب دیا۔ کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند میں بھی کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں۔

پاک فوج نے جارحیت کا مظاہرہ کرنے والی کئی افغان چوکیوں کو نشانہ جس میں درجنوں افغان فوجی مارے گئے۔

اس شرمناک ناکامی اور پسپائی پر افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان سے فوری جنگ بندی کی استدعا بھی کی تھی۔

جس پر پاکستان نے 15 اکتوبر کو 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا جس کی میعاد آج شام 6 بجے ختم ہونا تھی۔

طالبان حکومت نے ایک بار پھر جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی جس پر پاکستان نے دوحہ میں امن مذاکرات تک جنگ بندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟